اسپرین امراضِ قلب اور کینسر کو روکنے میں مددگار ہے

اسپرین امراضِ قلب اور کینسر کو روکنے میں مددگار ہے

aspirin

کیلیفورنیا ( اے آ ئی اے ) امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ جوان اور بالخصوص عمر رسیدہ افراد بھی اسپرین کا باقاعدہ استعمال کر کے نہ صرف امراضِ قلب اور کینسر سے محفوظ رہ سکتے ہیں بلکہ ان کی عمر بھی بڑھ سکتی ہے۔ بوڑھے افراد اگر اسپرین کا باقاعدہ استعمال کرتے رہیں تو اس سے صحت بہتر رہتی ہے بلکہ سالانہ 692 امریکی ڈالرز بھی بچائے جا سکتے ہیں جو بیمار ہونے پر ان کے معالجے پر خرچ ہو سکتے ہیں۔ یہ تحقیق امریکی ادارے ایف ڈی اے کی اس مؤقف کی تردید کرتی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روزانہ اسپرین کھانے سے پیٹ اور دماغ میں خون کے رساؤ اور فالج ہو سکتا ہے۔ یہ تحقیق یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے سائنسدانوں نے کی ہے جن کے مطابق اسپرین کی کم ڈوز روزانہ کھانے سے صحت پر اس کے بہترین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی کے سروے کا خلاصہ یہی ہے کہ اسپرین صحت پر طویل مدت کے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے یہ خون کو پتلا رکھ کر اس کی روانی کو بڑھاتی ہے اور یوں بلڈ پریشر اور امراضِ قلب کو روکتی ہے۔ماہرین نے دو جدید ترین ماڈلوں کو دیکھتے ہوئے بتایا کہ اگر اسپرین کھانے کو معمول بنا لیا جائے تو 51 سے 79 سال تک کے ایک ہزار میں سے دل کے 11 اور کینسر کے 4 کیسوں کو ٹالنا ممکن ہو گا۔

About author