ایف بی آر نے مشکوک اکاؤنٹس کی چھان نین شروع کردی
— April 26, 2019
کراچی ( اے آئی اے ) ایف بی آر نے مشکوک اکاؤنٹس کی چھان نین شروع کردی ہے تفصیلات کے مطابق ایف بی آر نے پاکستان بھر میں مشکوک اکاؤنٹس کی چھان بین شروع کردی ہے ابتدائی طور مشکوک اکاؤنٹس کی تعداد 6 ہزار کے لگ بھگ معلوم ہوئی ہے مشکوک اکاؤنٹس ہولڈرز کو نوٹس ارسال کردیئے گئے ہیں موصوله اطلاعات کے مطابق بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے کھاتے دار نوٹس پر حاضر ہوں گے ، اُن سے آمدنی اور ذرائع آمدنی کا ریکارڈ لیا جائے گا اور ریکارڈ فراہم نہ کرنے والوں کے خلاف منی لانڈرنگ کے تحت کارروائی کو آگے بڑھانے کے علاوہ ان سے اکاؤنٹ کے ذریعے ہونے والی ساری ٹرانزیکشنز پر عائد ہونے والے انکم ٹیکس سمیت ہر قسم کے لاگو ٹیکس وصول کئے جائیں گے باخبر ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے بے نامی بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات حاصل کرلی ہیں بے نامی اکاؤنٹس سے ماہانہ اربوں روپے کی ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ بھی اسٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ نے حاصل کرلیا ہے اور ایف بی آر کے دو شعبوں ڈائریکٹوریٹ جنرل آف انٹیلی جنس اینڈ انویسٹی گیشن ان لینڈ ریونیو،تمام زونل ڈائریکٹوریٹس کے براڈنگ ٹو ٹیکس بیسڈ ( بی ٹی ٹی بی ) نے نجی بینکوں سے ریکارڈ حاصل کرلیا ہے جس کی چھان بین کی روشنی میں تین مرحلوں میں مکمل ہونے والی تحقیقات میں مقدمات کا اندراج کیا جائے گا بے نامی ایکٹ کے تحت ہر وہ بینک اکاؤنٹ بے نامی سمجھا جائے گا جو کسی شخص نے اپنی دولت چھپانے کے لئے کسی دوسرے شخص سے کھلوایا ہو اور اس کے ذریعے اپنی رقوم بینک میں رکھواتا ہو یا کسی دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرواتا ہو , چاہے وہ شخص اس کے اپنے خاندان کا ہی فرد کیوں نہ ہو واضع رہے کہ ایسی خبریں بهی منظر عام پر آئیں کہ ماہانہ ہزاروں روپے آمدنی رکھنے والے شہریوں کے اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے آتے جاتے رہے جبکہ یہ شہری نہ تو بزنس مین تھے اور نہ ہی ایف بی آر میں ٹیکس دہندہ کی حیثیت سے ان کا اندراج تھا