سندھ اسمبلی کے حلقہ 114 میں انتخابی مہم اختتام پزیر
— July 8, 2017
کراچی ( رپورٹ راجہ خلیق – اے آ ئی اے ) سندھ اسمبلی کے حلقہ۔114میں انتخابی مہم جمعہ کی رات اختتام پزیر ہو گئی ہے اور سیاسی جماعتوں کے درمیان جوڑ توڑ مکمل ہو گیا ہے حلیف جماعتوں کی حمایت کے حصول کے لیے مذاکرات کے ساتھ ساتھ کارنر میٹنگز، جلسے، ریلیوں کا سلسلہ بھی عروج پر رہا، 9؍جولائی کو اس حلقے میں 26؍امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو گا، جے یو آئی، اے این پی، جے یو پی، وحدت المسلمین نے پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی کی حمایت کا اعلان کیا ہے جبکہ مرکزی جمعیت اہلحدیث نے علی اکبر گجر کی حمایت کا اعلان کیا ہے ا، حلقے میں پی پی پی کے سعید غنی، ایم کیو ایم کے کامران ٹیسوری، مسلم لیگ (ن) کے علی اکبر گجر، پی ٹی آئی کے نجیب ہارون کے درمیان اصل مقابلہ ہو گا، بانی متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے الیکشن سے لاتعلقی کے بعد ایم کیو ایم کے امیدوار کی پوزیشن قدرے کمزور ہو گئی ہے ماضی میں اس حلقے سےمسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے امیدوار جیتتے رہے ہیں اس حلقے کے انتخاب کو کراچی میں سیاسی بالادستی کا ٹیسٹ کیس بھی قرار دیا گیا ہے، حلقے میں سیاسی سرگرمیوں اور مقابلہ این اے۔246کے ضمنی انتخاب سے بھی زیادہ کا اہمیت اختیار کر گیا ہے، اس صوبائی حلقے کا انتخاب جیتنے کے لیے چاربڑی جماعتوں کے قائدین، بلاول بھٹو،عمران خان، سراج الحق اور فاروق ستارخطاب کر چکے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت بھی اس حلقے میں خطاب کر چکی ہے، پی ٹی آئی کی تقریباً تمام قیادت اس حلقے کے انتخاب کے موقع پر جلسوں سے خطاب کرچکی ہے، انتخاب جیتنے کے لیے امیدواروں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا ہے، حلقہ کے تمام 92؍پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے، 9؍جولائی کو اس حلقے میں قائم 3؍سو 68؍پولنگ بوتھوں پر ایک لاکھ 93؍ہزار 892؍ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، یہ حلقہ اعظم بستی، محمود آباد، مدینہ کالونی، منظور کالونی، جونیجو ٹاؤن، بلوچ کالونی، چنیسر گوٹھ سمیت اطراف کی آبادیوں پر مشتمل ہے یہ کثیر السانی صوبائی حلقہ بھی ہے انتخاب کے لیے ایک نائب قاصد اور 828؍افراد کا عملہ تعینات کیا گیا ہے، پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشن کے اندر باہر رینجرز کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ پندرہ سو پولیس احلکار بھی ڈیوٹی انجام دینگے