قبائلی عوام مزید ایف سی آر کو ماننے اور پولیٹیکل انتظامیہ کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں ، سینیٹر سراج الحق
— April 8, 2017
پشاور( اے آ ئی اے ) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن ستر سال اپنے حقوق سے محروم ہے ۔ قبائلی عوام اور نوجوان مزید ایف سی آر کو ماننے اور پولیٹیکل انتظامیہ کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں ہیں. ان خیالات کا اظہار انہوں نے خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے علاقے پکہ تڑا قمبر خیل میں شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا قبائلیوں کے راستے بند کئے جارہے ہیں ہم پاکستان کے اندر ایک اور دیوار برلن نہیں بننے دیں گے حکومت فوری طور پر فاٹا کو خیبر پختونخوا اور خیبر پختونخوا کو فاٹا میں ضم کرے قبائلیوں نے ایف سی آر کے خاتمے کےلئے قربانیاں دی ہیں فاٹا میں رائج موجودہ نظام غلامی کا نظام ہے قبائلی ایف سی آر کی جگہ اللہ پاک کے نظام کا نفاذ چاہتے ہیں. حالات کا تقاضا ہے کہ 2018ءکے انتخابات میں فاٹا کے عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دی جائے اور قومی اسمبلی میں کوٹہ بڑھایا جائے ہم چاہتے ہیں کہ ان اقدامات کے باعث فاٹا سے بھی کوئی وزیر اعلیٰ اور گورنربن سکے ۔ جلسے سے جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے امیر مشتاق احمد خان ، جماعت اسلامی فاٹا کے امیر حاجی سردار خان، نائب امیر زرنور آفریدی، امیر جماعت اسلامی کے خصوصی مشیر برائے انسانی حقوق انتخاب خان چمکنی، جے آئی یوتھ فاٹا کے صدر شاہ جہان آفریدی، جماعت اسلامی خیبر ایجنسی کے امیر شاہ فیصل آفریدی سمیت دیگر قبائلی عمائدین اور ملکان نے بھی خطاب کیا۔ شمولیتی جلسے میں مراد ستوری خیل، سراج الدین، کاشف، حاجی گل محمد، ملک نصرت، گل نبی اور حاجی گل سمیت مختلف اقوام کے پانچ سو سے زائد عمائدین نے اپنے خاندان اور ساتھیوں سمیت جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیااس موقع پر سراج الحق نے جے آئی یوتھ کی نومنتخب کابینہ سے حلف بھی لیا۔