معروف قانون دان شریف الدین پیر زادہ انتقال کرگئے

معروف قانون دان شریف الدین پیر زادہ انتقال کرگئے

sharifuddin pirzada

کراچی ( اے آ ئی اے ) پاکستان کے معروف سینئرقانون دان شریف الدین پیر زادہ کراچی میں انتقال کرگئے۔ انکی عمر 94 سال تھی۔ انکی وفات کے باعث سندھ ہائیکورٹ میں تمام بورڈ ڈسچارج کردیئے گئے جبکہ ججز کے چیمبر میں اہم مقدماتکی سماعت ہوئی۔ شریف الدین پیرزادہ کا شمار پاکستان کے معروف قانونی ماہرین میں ہوتا ہے۔ وہ 12 جون 1923 میں مدھیہ پردیشں کے شہر برہان پور میں پیدا ہوئے۔ انکے والد میر نیازی پیرزادہ بھی ایک معروف وکیل تھے۔ وہ تین مرتبہ پاکستان کے اٹارنی جنرل رہے۔ صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیرخارجہ کر طور پرکام کیا۔ سید شریف الدین پیرزادہ نے لنکنز اِن کالج سے بار ایٹ لاءکیا اور 1945 ءمیں بمبئی یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ وہ پہلے پاکستانی تھے جو متفقہ طور پر 1985 ءسے 1988 ءتک او آئی سی کے سیکرٹری جنرل منتخب ہوئے۔ شریف الدین پیرزادہ کو ملک میں آئینی امور کے معروف وکیل کی حیثیت حاصل رہی۔ انہوں نے بین الاقوامی فورمز اور ٹریبونل میں پاکستان کی نمائندگی کی جن میں رن کچھ کیس، نمیبیا ریفرنس اور بھارت کیخلاف سول ایوی ایشن قوانین کی خلاف ورزی کا کیس شامل ہے۔ وہ جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف کے دور میں اہم قانونی مشیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیتے رہے۔ انہیں قانون حلقوں میں آئینی معاملات پر خاصہ متنازع سمجھا جاتا رہا ہے ۔1947ءمیں تقسیم کے بعد وہ پاکستان آگئے اور کراچی میں سکونت اختیار کی۔ شریف الدین پیرزادہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے سیکرٹری بھی رہے۔ انہیں پاکستان میں آئینی جادوگر کہا جاتا تھا انہوں نے پاکستان، تحریک پاکستان اور آئین و قانون سے متعلق کئی کتابیں لکھیں اور کئی بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ شریف الدین پیرزادہ کو 1998ءمیں نشان امتیاز کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

About author