پاکستان کے معروف ماہر امراض خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی انتقال کرگئے

پاکستان کے معروف ماہر امراض خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی انتقال کرگئے

کراچی ( اے آئی اے ) پاکستان کے معروف ماہر امراض خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی انتقال کرگئے تفصیلات کے مطابق پاکستان کے معروف ماہر امراض خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی انتقال کرگئے ہیں پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی نجی اسپتال کے انتہائی نگہداشت کے شعبے میں زیر علاج تھے موصولہ اطلاعات کے مطابق ڈاکٹر طاہر شمسی برین ہیمرج کے باعث کراچی کے نجی اسپتال میں زیرِ علاج تھے پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی 18 فروری 1962 میں پیدا ہوئے انہوں نے صرف 8 سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کیا 1988 میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے گریجویشن کیا برطانیہ سے پوسٹ گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد رائل کالج آف پیتھالوجسٹ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ڈاکٹر طاہر شمسی نیشنل انسٹیٹیوٹ آف بلڈ ڈیزیز NIBD کے میڈیکل ڈائریکٹر تھے اور بون میرو ٹرانسپلاٹ کے بھی ماہر تھے انہوں نے بون میرو ٹرانسپلانٹ کے 650 آپریشن کیے اور 100 سے زیادہ تحقیقی مضامین لکھے وہ بہترین طبیب ، سائنس دان ، ڈین اور پروفیسر میڈیسن/کلینکل ہیماٹولوجسٹ بون میرو ٹرانسپلانٹ فزیشن تھے انہوں نے 7 کتابیں بھی لکھیں، کئی ہیماٹولوجی جرنلز کے ایڈیٹر بھی رہے ان کی بین الاقوامی جرائد میں 43 سے زیادہ تحقیقی اشاعتیں ہیں ڈاکٹر طاہر شمسی نے شعبہ طب میں شاندار خدمات سرانجام دیں ، انہوں نے پہلی بار 1995میں بون میرو ٹرانسپلانٹ متعارف کرایا تھا، سیکڑوں افراد کا بون میرو ٹرانسپلانٹ کیا۔ انہوں نے کورونا کی پہلی لہر کے دوران پلازمہ سے علاج کا طریقہ دریافت کیا، سنہ 2016 میں ڈاکٹر طاہر شمسی کو امریکا میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ملک کے معروف ماہر امراضِ خون پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ سے اظہارِ ہمدردی اور صبر جمیل کی دعا کی ہے پاکستان کے سیاسی سماجی رہنماؤں نے پروفیسر ڈاکٹر طاہر شمسی کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر طاہر شمسی ہمارے ملک کا اثاثہ تھے انہوں نے طب اور تحقیق کے شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں ہیں مرحوم نے بون میرو ٹرانسپلانٹ اور خون کے دیگر کینسر کے علاج میں خدمات ياد رکھی جائیں گی ، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر طاہر شمسی کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے

About author