پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کو گرفتارکرلیا

پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کو گرفتارکرلیا

khawaja-izhar

کراچی  ( اے آ ئی اے ) پولیس نے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے گھر چھاپہ مار کر انہیں گرفتارکرلیا۔ اس موقع پر متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار بھی موجود تھے۔ وہ پولیس اہلکاروں کو گرفتاری سے روکتے رہے۔ پولیس خواجہ اظہار کو ہتھکڑی لگا کر بکتربند گاڑی میں بٹھا کر ساتھ لے گئی۔ وزیراعلی سندھ نے ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کو معطل کردیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لے لیا۔ ایس ایس پی ملیر خواجہ اظہار الحسن کو ہتھکڑی لگا کر بکتربند گاڑی میں بٹھا کر لے گئے۔ انہیں تھانہ گڈاپ سٹی منتقل کر دیا گیا ہے۔ گرفتاری کے وقت متحدہ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار بھی خواجہ اظہار الحسن کے گھرموجود تھے۔ وہ پولیس اہلکاروں کو گرفتاری سے روکتے رہے۔ فاروق ستار ایس ایس پی راﺅ انوار سے گرفتاری کی وجہ پوچھتے رہے اور انہیں بتاتے رہے کہ خواجہ اظہار الحسن اپوزیشن لیڈر ہیں وہ انہیں گرفتار کرنے سے روکتے رہے، لیکن پولیس نے ایک نہ سنی اور گرفتارکر کے لے گئے۔  انہیں بلاجواز گرفتار کیا گیا۔ راﺅ انوار سے الزام کے بارے میں پوچھتا رہا وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے خواجہ اظہار الحسن کی گرفتاری کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کو معطل کردیا ہے ۔ اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار نے کہا خواجہ اظہار ملیر ضلع کے مختلف تھانوں کو مطلوب ہیں، خواجہ اظہار الحسن پر مختلف مقدمات ہیں، خواجہ اظہار 2 مقدمات میں مطلوب ہے،، میں نے قانون کے مطابق کارروائی کی۔ قبل ازیں بھی بفرزون میں پولیس نے خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ مارا اور تلاشی لی تاہم کسی کو حراست میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی گھر پر چھاپے اور تلاشی کی وجہ بتائی گئی۔ خواجہ اظہار الحسن کے مطابق پولیس نے پورے گھر کی تلاشی بھی لی تاہم اس پوری کارروائی کی وجہ نہیں بتائی گئی اور تلاشی کے بعد پولیس اہلکار واپس چلے گئے۔خواجہ اظہار الحسن نے بتایا کہ چھاپہ ان کی غیر موجودگی میں مارا گیا جس وقت پولیس نے چھاپہ مار کر گھر کی تلاشی لی وہ موجود نہیں تھے اور انہیں پولیس کی اس کارروائی کا گھر والوں سے علم ہوا ۔دوسری طرف ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار کا کہنا تھا خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر ملیرانویسٹی گیشن اور آپریشن پولیس نے چھاپہ مارا تھا۔ ان کے گھر میں سانحہ 12مئی کے ملزموں جن میں رئیس ماما شامل ہے کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ خواجہ اظہار الحسن نے چھاپے کے بارے میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو آگاہ کیا اور وزیر اعلیٰ نے ٹیلی فون پر آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کی جبکہ ترجمان وزیر اعلیٰ ہاﺅس کا کہنا تھا وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کے گھر پر چھاپہ مارنے والے سہراب گوٹھ تھانے کے انچارج کو معطل کر دیا۔ سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار کے گھر چھاپے سے قبل نہیں بتایا گیا، میڈیا کے ذریعے اپوزیشن لیڈر کے گھر پر چھاپے کا پتہ چلا۔ کسی بھی رکن کے گھر چھاپے سے پہلے سپیکر کے علم میں لایا جاتا ہے۔

About author