پی ٹی ایم کو جتنی آزادی دینی تھی دے دی , اب قانون حرکت میں آئے گا , ترجمان پاک فوج
— April 30, 2019
راولپنڈی ( اے آئی اے ) پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر ) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پی ٹی ایم کو جتنی آزادی دینی تھی دےدی , اب قانون حرکت میں آئے گا ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے جتنی آزادی لینی تھی لے لی , ان کیلئے وقت ختم ہوگیا ، بھارتی فنڈنگ کا انہیں جواب دینا ہوگا قانونی طریقے سے جواب لیں گے مدارس کو قومی دھارے میں لانے کا فیصلہ بہت پہلے کر لیا تها یہ کام کسی کے دباؤ پر نہیں ہورہا ،حکومت نے مدارس کو وزارت صنعت سے نکال کر وزارت تعلیم کے ماتحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، اس حوالے سے نیا نصاب مرتب کیا جائے گا بھارت ہمیں نہ آزمائے ور نہ 27 فروری کو دہرا سکتے ہیں۔ آئی ایس پی آر ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ جب بھارت نے پلوامہ حملے کے الزامات لگائے تو میں نے 22فروری کو پریس کانفرنس کی تھی جس میں کہاتھا کہ ریاست پاکستان پلوامہ حملے میں کسی بھی طور ملوث نہیں ،بھارت سے یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم پاکستان کی حقیقت پسندانہ تحقیقات اور مذاکرات کی تجاویز پر نئی دہلی سنجیدگی سے غور کرے ۔26فروری کی رات بھارت نے پاکستان کی فضائی سرحدی خلاف ورزی کی ان کے فضائی حملے کو ہم نے ناکام بنایا اور اسی روز پریس کا نفرنس کرتے ہوئے میں نے بھارت کو نوٹس دیا تھاکہ ہمارے جواب کا انتظار کریں کیونکہ وزیر اعظم نے بھی کہا تھا کہ ہم جواب دینے کیلئے مجبور ہونگے پھر 27فروری کو الله پاک کے فضل و کرم سے بھرپور جواب دیکر ان کے 2 جہاز گرانے اور پائلٹ گرفتار کرنے کے بعد میں نے آپ سے بات کی تھی،27فروری کو گزرے 2ماہ ہوگئے ،ان دو ماہ کے دوران بھارت ان گنت جھوٹ بولے جا رہاہے ہم نے ایک ذمہ دار ملک کا ثبوت دیتے ہوئے ان کی لفظی اشتعال انگیزی کا جواب نہیں دیا یہ نہیں کہ ہم جواب نہیں دے سکتے ، جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کیلئے بار بار جھوٹ بولنا پڑتا ہے جبکہ سچ ایک دفعہ ہی بولا جاتا ہے ہم نے ان کے جھوٹوں کا جواب نہیں دیا اسی لئے انہوں نے بار بار جھوٹ بولا حقیقت کیا ہے ؟ حقیقت یہ ہے کہ پلوامہ میں یہ کوئی پہلا حملہ نہیں تھا ،وہاں تین چار سال سے پولیس پر حملے جاری ہیں اسی قسم کے واقعات مقامی ردعمل کے طور پر پہلے بھی ہوتے رہے ہم نے ان سے کہا کہ کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں ہم نے کہا آپ کا فضائی حملہ ناکام بنایا ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوا , نہ جانی , نہ انفرا سٹرکچر تباہ ہوا صرف مقامی ہی نہیں عالمی میڈیا نے بھی دیکھا , میں نے بھارت سے آئے غیر ملکی میڈیا سے کہا کہ آپ نے واپس بھارت جانا ہے تو انہیں کہیں کہ ایک دفعہ جو کہتے کہ ہم نے ایسا میزائل گرایا جو چھت سے سوراخ کرتے ہوئے اندر گیا اور پھٹ گیا , ایسے میزائل کا براہ راست مظاہرہ ہم بھی دکھا دیں،اگر آپ کے اس مظاہرے میں ایساہی ہوگیا تو ہم مان لیں گے ،اگر پھر بھی تسلی نہیں ہوتی تو بھارت ا پنا میڈیا پاکستان بھیجے ہم انہیں سہولت دینگے ،انہیں دکھائیں گے کہ کہاں میزائل گرے اور ان کے کیا نتائج نکلے ،میجرجنرل آصف غفور نے کہاکہ ہم نے بھارت کے دو جہاز گرائے جن کا ملبہ ساری دنیا نے زمین پر دیکھا،آپ کی ایئر فورس نے پاک فضائیہ کے ڈر سے اپنا ہی ایم آئی 17ہیلی کاپٹر گرادیا اور اس کا بلیک باکس بھی گم کردیاہے ۔ہیلی کاپٹر گرنے کی انکوائری بھٹنڈا کے روٹ پر ڈال دی کہ جب الیکشن ختم ہوجائینگے تو اس کی رپورٹ بھی آجائیگی،جھوٹ کی کوئی حد نہیں ہے ،بھارت کی جانب سے ہمارا ایف 16 گرانے کا کہا گیا ،آج کے دور میں کوئی چیز چھپتی نہیں،موٹر سائیکل لگ جائے تو اس کی خبر نہیں چھپتی یہ تو پھر ایف 16 ہے ،پھر ایک آرٹیکل میں لکھا گیا کہ امریکہ نے پاکستان کے ایف 16 طیاروں کی گنتی کی ہے جو پورے نکلے ،پاکستان کے امریکہ سے جیسے بھی تعلقات ہیں بھارت کے تو واشنگٹن سے بہت اچھے تعلقات ہیں آپ ان سے کہیں کہ مہربانی کرکے ایک بیان دے دیں کہ پاکستان کا ایک ایف 16طیارہ کم ہے جھوٹ کے کوئی پاؤں نہیں ہوتے ، ہمارے پاس بتانے کو بہت کچھ ہے ، ابھی تو ہم نے اپنے شاہینوں کو آنر کرنا ہے جنہوں نے بھارتی جہاز گرائے ہم مناسب وقت کا انتظار کررہے ہیں کہ حالات معمول پر آجائیں آپ نے بالاکوٹ کا جو ٹیبو بنایا یہ کردیا , وہ کردیا، جو پاکستان نے نوشہرہ سیکٹر میں جوابی حملہ کیا اس کے نتیجے میں کیا ہوا، بھارت نے اس بارے کچھ نہیں بتایا , آپ نے حملہ رات کو ہم نے جوابی حملہ دن کی روشنی میں کیا آپ نے ایک ہدف کیلئے چار میزائل گرائے جبکہ ہم نے 4اہداف کیلئے 6 میزائل فائر کیئے ۔ وہ ہمارے میزائل جو اسلحہ ڈپو کے ساتھ گرے ذرا بتائیں اس اسلحہ ڈپو کی حالت کیا ہے ، کیا وہ اسلحہ استعمال کے قابل ہے یا نہیں،آپ کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز پر ہم نے جان بوجھ کر محفوظ فاصلہ رکھ کر فائر کیا، بھارت بتائے اس ہیڈ کوار ٹرز میں کون تھا ؟ آپ کہتے ہیں ہم نے پاکستان کے رویے کو تبدیل کرنا ہے ، آپ تو نہیں کرسکے ، آپ نے ہماری کچھ کچھ اچھی چیزیں اپنا لی ہیں یہ بھی اچھی بات ہے ، ہم نے بزرل ٹاپ کھول دیا ہے تو آپ نے دو دن بعدجیلا پاس کو کھلا کر کھڑے ہوکر تصاویر بنوائیں اور وہ بھی لگادیں ہم اپنے میڈیا پر شہید آف دی ڈے دیتے ہیں اور آپ نے بھی دینا شروع کردیا ، ہم بہت خوش ہیں، مجھے وہ گانا بھی یاد آرہاہے جو آپ نے ہمارا گانا لیکر ڈال دیا ہم آپ کے رویے میں تبدیلی لے آئے ہیں لیکن جو آپ چاہتے ہیں وہ نہیں ہوسکتا انہوں نے کہا کہ28 فروری کو آپ میزائل فائر کرنے کی تیاری کررہے تھے جواب میں ہم نے جو تیاری کی وہ بھی آپ نے دیکھی , وہ بھی آپ اپنے میڈیا کو بتائیں،اس رات لائن آف کنٹرول کے ساتھ کیاہواوہ بھی بتائیں اس رات ہماری جو فائر منوورنگ تھی ( ڈسرپٹو اور ڈسٹرکٹو ) اس نے کس طریقے سے آپ کی ان گن پوزیشنز کو جو آپ ہمارے کشمیری بھائیوں پر روزانہ فائر کرتی تھیں اسے بدلنے پر آپ کو مجبور کیا آپ کے کتنے فوجی مارے گئے یہ بھی اپنے میڈیا کو بتائیں ، ہم خواہش کرتے ہیں کہ آپ ہمارے ان اچھے پیغامات کو دیکھیں گے اور امن کی طرف چلیں گے بھارت میں الیکشن چل رہے ہیں اور الیکشن میں بہت ساری باتیں ہوتی ہیں ہم نے بہت ساری باتیں سنیں حتیٰ کہ جوہری حملے کی بھی بات سنی ، بھارتی آرمی چیف نے جب جوہری صلاحیت استعمال کرنے کی بات کی تو ہم نے کہا کہ سمجھداری کی بات یہ ہوتی ہے کہ جن کے پاس یہ صلاحیت ہوتی ہے وہ استعمال کرنے کی بات نہیں کرتے ، یہ ہتھیار ڈیٹرنس کیلئے ہوتے ہیں اور یہ ریاست کے اعتماد کو ظاہر کرتے ہیں آپ بات کرتے ہیں دیوالی پر چلانے کیلئے نہیں رکھا ،جب بات ملک کے دفاع اور سلامتی کی آتی ہے تو ہر صلاحیت آزمائی جاتی ہے ، پاکستان بھی حق رکھتا ہے کہ ہر قسم کی صلاحیت استعمال کرے گا آپ کو شک نہیں ہونا چاہیے ۔ اگر آپ کا دل ہے تو آزما لیں اس کے بعد اپنے گرنے والے جہازوں اور نتائج کو بھی ذہن میں رکھیں میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کیلئے را نے پی ٹی ایم کو فنڈز دیے، پی ٹی ایم لاپتا افراد کی فہرست ہمیں دے معلوم کرالیں گے کون کہاں ہے ، پی ٹی ایم والوں سے سوالوں کے جواب قانونی طریقے سے لیں گے , پاکستان میں کسی منظم دہشت گرد تنظیم کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے، پاکستان میں داعش کو جگہ نہیں بنانے دیں گے اور افغان پناہ گزینوں کی واپسی بہت ضروری ہے مدرسوں کو قومی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے مدارس کے نصاب میں دین اور اسلام تو ہوگا نفرت انگیز مواد نہیں , بھارت امن کے لئے سنجیدہ ہے تو آئے اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرے ،جب بات ملکی دفاع اور سلامتی کی ہو تو پاکستان ہر قسم کی صلاحیت اپنائے گا اگر 1971میں آج کا میڈیا ہوتا ، بھارتی حالات بے نقاب کرتا تو مشرقی پاکستان علیحدہ نہیں ہوتا ، ہم ہر وہ کام کریں گے جو ملک کی سیکیورٹی کیلئے ضروری ہوگا