کوئٹہ سول ہسپتال میں خودکش دھماکہ ، 70 افراد جاں بحق
— August 8, 2016
کوئٹہ ( اے آ ئی اے ) کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 70 ہو گئی ہے ، جاں بحق ہونے والوں میں صحافی بھی شامل ہیں۔ دھماکے وقت ہسپتال میں وکلا کی بڑی تعداد موجود تھی جو ساتھی وکیل بلال کاسی پر قاتلانہ حملے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ سول ہسپتال کوئٹہ میں ایمرجنسی کے سامنے خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو اس وقت اڑایا جب وکلا اور میڈیا کی بڑی تعداد بلوچستان بار کونسل کے صدر بلال کاسی پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ہسپتال میں موجود تھی۔ دھماکہ اس قدر خوفناک تھا کہ ہر طرف بھگدڑ اور چیخ و پکار مچ گئی۔ اس موقع پر کئی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں وکلا کی بڑی تعداد کے علاوہ نجی ٹی وی “آج” کا کیمرہ مین شہزاد اور بلوچستان بار کونسل کے صدر باز محمد کاکڑ شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں ڈان نیوز کے کیمرہ مین اور دنیا نیوز کے رپورٹر فرید اللہ بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی بڑی تعداد اور لاشوں کو لے جانے کے لئے سول ہسپتال میں ایمبولینسیں کم پڑ گئیں جس کی وجہ سے زخمیوں کو نجی گاڑیوں میں دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔ دھماکے کے پیش نظر شہر کی تمام ایمبولینسوں کو طلب کر لیا گیا جبکہ کوئٹہ کے تمام ڈاکٹروں کی چھٹیاں منسوخ کر کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق سول ہسپتال کے شعبہ حادثات میں کئے گئے دھماکے میں 15 سے 20 کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، دوسری جانب واقعے کے بعد مشتعل افراد نے احتجاج کرتے ہوئے ہسپتال کے مختلف شعبوں میں گھس کر توڑ پھوڑ کی جس کے نتیجے میں طبی سہولیات کی فراہمی کا سامان اور دیگر دفتری سامان کا نقصان ہوا ہے جس کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے جب کہ دھماکے کی جگہ سے شوہد اکٹھے کرنے کے بعد تفتیش شروع کردی گئی ہے۔۔ پولیس کا کہنا ہے کہ سول اسپتال میں کیا گیا دھماکا خود کش تھا اور اس میں 15 سے 20 کلو گرام دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان ثنا اللہ زہری نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کا واقعہ بزدلانہ واقعہ ہے، ملوث افراد کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ایڈووکیٹ بلال کاسی کو گزشتہ صبح نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ دھماکے سے کچھ دیر پہلے بلال کاسی کی لاش ہسپتال میں لائی گئی تھی۔ وزیراعظم نواز شریف نے دھماکے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلوچستان میں عوام، فورسز اور پولیس کی بے پناہ قربانیوں کے بعد امن بحال ہوا، کسی کو بلوچستان کا امن تباہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف فرنٹ فٹ پر جنگ لڑ رہے ہیں۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سول ہسپتال میں دھماکے کے بعد تمام ڈاکٹرز کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔ ترجمان بلوچستان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے آسان ہدف کو نشانہ بنایا۔ خودکش دھماکے کو روکنے کے لیے سیکورٹی کے 4 افراد ناکافی ہوتے ہیں۔ وزیرصحت بلوچستان رحمت اللہ بلوچ کا کہنا ہے کہ دھماکہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ سپریم کورٹ بار نے کوئٹہ سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سات روز کے سوگ کا اعلان کیا، صدر سپریم کورٹ بار کہتے ہیں دہشت گردوں کے حملے سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب واقعے کے بعد پاکستان بار کونسل نے ملک گیر یوم سوگ کا اعلان کر دیا جس کے بعد ملک بھر میں وکلا برادری نے عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کر دیا۔