کراچی میں دوبارہ لاقانونیت کا دور نہیں آنے دیں گے ، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ
— April 8, 2017
کراچی ( اے آ ئی اے ) وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ کراچی کی روشنیاں اور رونقین ایک حد بحال ہو گئی ہیں جس کا اندازہ ا س بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی غیر ملکی کمپنیوں نے یہاں اپنے یونٹس لگانے کے لیے سندھ حکومت سے رابطے کرتے ہوئے تعاون طلب کیا ہے۔ کراچی کی تاجروصنعتکار برادری کی مدد سے ہم شہر قائد کی رونقیں مکمل طور پر بحال کرنے میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایکسپو سینٹر میں کراچی چیمبر آف کامرس ( کے سی سی آئی) کے زیر اہتمام جمعے سے منعقد ہونے والی14ویں سالانہ ” مائی کراچی“ نمائش کے افتتاح کے موقع پر بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پرصوبائی وزیر صنعت منظور حسین وسان،چیئرمین بزنس مین گروپ و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی،وائس چیئرمینز بی ایم جی طاہر خالق، زبیر موتی والا،انجم نثار، کے سی سی آئی کے صدر شمیم احمد فرپو،سینئر نائب صدر آصف نثار، نائب صدر محمد یونس سومرو،سابق صدور اے کیو خلیل،عبداللہ ذکی، یونس محمد بشیر،ٹی ڈی اے پی کے سی ای او ایس ایم منیر، چیرمین خصوصی کمیٹی برائے مائی کراچی محمد ادریس اور کے سی سی آئی کی منیجنگ کمیٹی کے اراکین بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ کراچی کی ترقی کے بغیر پورے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں۔ اب اس سچائی کا سب کو احساس ہو چکا ہے۔انہوں نے گیس انفرااسٹرکچر ڈیولپمنٹ سیس( جی آئی ڈی سی) پر تشویش کے اظہار پر کہاکہ جی آئی ڈی سی کے نفاذ کا مقصد متبادل اسکیموں کے لیے فنڈز جمع کرنا اور ایل این جی کی قیمت کے برابرلانا تھا۔یہ مکمل طور پر غیر منصفانہ ہے اور انھوں نے اس مسئلے کو سی سی آئی کے دسمبر 2016 میں منعقد ہونے والے اجلاس میں بھی اٹھایااور وہ سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں بھی اس مسئلے کو اٹھائیں گے۔انہوں نے سندھ ریونیو بورڈ کی جانب سے دہرے ٹیکس کے معاملے پر تاجر وصنعتکار برادری کے ساتھ بیٹھنے کی یقین دہانی بھی کروائی تاکہ اس مسئلے کا حل تلاش کیا جاسکے۔ایس آر بی کی جانب سے اگر کوئی ڈبل ٹیکس پایا گیا تو فوری طور پر اسے واپس لینے کے احکامات جاری کیے جائیں گے۔انہوںنے کہاکہ کراچی دوبارہ لاقانونیت کے دور کا متحمل نہیں ہوسکتا لہٰذا سویلین فورسز کی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لئے کوششیں جاری ہیں جس سے کراچی میں دیر پا امن یقینی بنایا جاسکے گا۔ انہوں نے کے فور منصوبے کے حوالے سے کہاکہ اس 25 ارب کے منصوبے کی فنڈنگ کے لیے وفاق اور صوبائی سطح پر برابر فنڈز دینے پر اتفاق ہوا تھا لیکن منصوبے کی 90فیصد فنڈنگ سندھ حکومت نے فراہم کی جبکہ وفاقی حکومت نے صرف 10فیصد فنڈز دیے۔انہوںنے وعدہ کرتے ہوئے کہاکہ اگر وفاقی حکومت نے اس منصوبے کے لئے پیسے نہ بھی ڈالے تب بھی اس منصوبے کومکمل کرنا وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں تاہم اگر ایسا ہوا تو وہ اس مسئلے پر بھرپور آواز اٹھائیں گے اور اس ضمن میں انہیں تاجروصنعتکار برادری کی حمایت درکار ہوگی تاکہ وفاقی حکومت پیچھے نہ ہٹ سکے۔بزنس مین گروپ کے چیئرمین و سابق صدر کے سی سی آئی سراج قاسم تیلی نے 2004 سے ”مائی کراچی“ نمائش میں بلاتعطل تعاون پر سندھ حکومت اور گورنر سندھ کو خراج تحسین پیش کیا۔