حکومت پاکستان نے رمضان المبارک میں نمازجمعہ وتراویح کی مشروط اجازت دے دی
— April 19, 2020
اسلام آباد ( اے آئی اے ) حکومت پاکستان نے رمضان المبارک میں نمازجمعہ وتراویح کی مشروط اجازت دے دی تفصیلات کے مطابق صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی زیر صدارت علمائے کرام اور مشائخ کے ایک اجلاس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں رمضان المبارک کے دوران نماز تراویح اور جمعہ سے متعلق 20 نکاتی متفقہ اعلامیہ جاری کردیا گیا جس کے مطابق حکومت نے رمضان المبارک میں نمازجمعہ وتراویح کی مشروط اجازت دے دی البتہ حکومت شدید متاثرہ علاقے میں شرائط مزید سخت اور احتیاطی تدابیر نظرانداز کرنے پر فیصلہ بدل سکے گی صدر مملکت نے رمضان المبارک کے دوران نماز تر اویح اور نماز جمعہ کی اجازت سے متعلق آزاد جموں و کشمیر ، گلگت بلتستان ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ،گورنرز ، علمائے کرام اور سیاسی شخصیات کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی جبکہ چاروں صوبائی حکومتوں سے تحریری سفارشات طلب کی گئی تھیں ، عالمی ادارہ صحت کی سفارشات اور کورونا کے باعث ملک کی اندرونی صورتحال کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے ، صدر مملکت کی بھر پور کاوشوں سے مشاورت پرمبنی یہ متفقہ اعلامیہ طے پایا تمام صوبوں سے علمانے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کی اجلاس کے اختتام پر مساجد اور امام بارگاہوں میں نمازاورتراویح کے اہتمام کے حوالے سے جاری کئے گئے متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ مساجد اور امام بارگاہوں میں قالین یا دریاں نہیں بچھائی جائیں گی ، صاف فرش پر نماز پڑھی جائے گی۔اگر کچا فرش ہو تو صاف چٹائی بچھائی جا سکتی ہے جو لوگ گھر سے اپنی جائے نماز لا کر اس پر نماز پڑھنا چاہیں ، وہ ایسا ضرور کریں اعلامیہ میں مزید کہاگیاہے کہ نماز سے پہلے اور بعد میں مجمع لگانے سے گریز کیا جائے جن مساجد اور امام بارگاہوں میں صحن موجود ہوں وہاں ہال کے اندر نہیں بلکہ صحن میں نماز اور تراویح کا اہتمام کیا جائے سڑک اورفٹ پاتھ پر نماز پڑھنے سے اجتناب کیا جائے اعلامیہ کے مطابق 50سال سے زیادہ عمر کے نمازی ، نابالغ بچے اور کھانسی، نزلہ ،زکام وغیرہ کے مریض نہ آئیں مسجد اور امام بارگاہ کے فرش کو صاف کرنے کے لئے پانی میں کلورین کا محلول بنا کر دھویا جائے اسی محلول کو استعمال کر کے چٹائی کے اوپر نماز سے پہلے چھڑکاؤ بھی کر لیا جائے ۔ اعلامیہ میں کہاگیاہے کہ صف بندی کا اہتمام اس انداز سے کیا جائے کہ نمازیوں کے درمیان 6 فٹ کا فاصلہ رہے ایک نقشہ منسلک ہے جو اس سلسلے میں مدد کر سکتا ہے مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ذمہ دار افراد پر مشتمل ایک کمیٹی بنائے جو احتیاطی تدابیر پرعمل یقینی بنا سکے منتظمین اگر فرش پر صحیح فاصلوں کے مطابق نشان لگا دیں تو نمازیوں کی اقامت میں آسانی ہو گی وضو گھر سے کر کے تشریف لائیں صابن سے بیس سیکنڈ ہاتھ دھو کر آئیں اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ لازم ہے کہ ماسک پہن کر مسجد اور امام بارگاہ آئیں ، کسی سے ہاتھ ملائیں اور نہ ہی بغل گیر ہوں اپنے چہرے کو ہاتھ لگانے سے گریز کریں گھر واپسی پر ہاتھ دھو کر ایساکر سکتے ہیں موجودہ صور ت حال میں بہتر یہ ہے کہ گھر پر اعتکاف کیا جائے افطار اورسحر کا اجتماعی انتظام نہ کیا جائے مساجد اور امام بارگاہ انتظامیہ ، آئمہ اور خطیب ضلعی وصوبائی حکومتوں اور پولیس سے رابطہ رکھیں انتظامیہ کو ان احتیاطی تدابیر کے ساتھ مشروط اجازت دی جا رہی ہے ، اگر رمضان کے دوران حکومت یہ محسوس کرے کہ ان احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہو رہا یا متاثرین کی تعداد خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے تو حکومت دوسرے شعبوں کی طرح مساجد اور امام بارگاہوں کے بارے میں پالیسی پر نظر ثانی کرے گی اس بات کا بھی حکومت کو اختیار ہے کہ شدید متاثرہ مخصوص علاقہ کے لیے احکامات اور پالیسی بدل دی جائے گی۔ اجلاس میں اسلام آباد سمیت چاروں صوبوں سے جید علما، مشائخ اور مذہبی جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے ۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور پیر نور الحق قادری، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز، معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا ، صوبائی گورنرز ، پیر امین الحسنات، علامہ راجہ ناصر عباس، پیر چراغ الدین شاہ، علامہ عارف واحدی، مفتی گلزار نعیمی، علامہ امین شہیدی، ڈاکٹر ساجد الرحمان اور پیر نقیب الرحمان سمیت دیگر علماء و مشائخ نے شرکت کی۔ صدرمملکت ڈاکٹر عارف نے اجلاس کے آغازپر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر کو کورونا کی وبا کا سامنا ہے ۔ اس اجلاس کا مقصد رمضان المبارک اور تراویح کے دوران احتیاطی تدابیر کے حوالے سے قومی ہم آہنگی پیدا کرنا ہے ۔ صورتحال پر علماکے ساتھ صلاح ومشورہ ضروری تھا۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ موجودہ صورتحال پر علماو مشائخ نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے ، انھیں صورتحال کی سنگینی کا احساس ہے ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں مساجد اور مدارس کیساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا ، انہوں نے کہا کہ عبادات کیساتھ حفظان صحت کے اصولوں کا بھی خیال رکھا جائے ۔ لائحہ عمل پر عملدرآمد ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری ہے انہوں نے کہا رمضان المبارک اور مساجد مسلمانوں کیلئے انتہائی اہمیت رکھتی ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ کورونا صورتحال کے تناظر میں کوئی متفقہ پالیسی وضع کی جائے صدر مملکت نے کہا کہ عوام سے اپیل کرتا ہوں مدارس اور مساجد کو عطیات دینے کا سلسلہ جاری رکھیں انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی صورتحال کے تناظر میں حالات میں تبدیلی آجائے گی ، کہیں حالات میں نرمی اور کہیں سختی ہو گی ۔ حکومت اس حوالے سے تیاری کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا اسلام نظم ونسق کا درس دیتا ہے اور منظم قومیں ہی ترقی کرتی ہیں۔ ہمیں حضرت محمدؐ کی سیرت طیبہ سے بھی نظم ونسق کا سبق ملتا ہے ۔ مسلمان اپنے عزم سے ہر چیز پر قابو پا سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے اس وبا سے نجات اور مغفرت کی دعا کرتے ہیں