پی سی جی اے  نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے

پی سی جی اے نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے


ملتان( اے آئی اے ) پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے)نے کپاس کی فیکٹریوں میں آمد کے اعدادو شمار جاری کر دیئے ہیں، جسکے مطابق 30نومبر2023تک ملک کی جننگ فیکٹریوں میں 77لاکھ 53ہزار473گانٹھ کپاس آئی۔ 30نومبر 2022 تک 42 لاکھ80ہزار500گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی تھی۔گذشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 34لاکھ 72ہزار973گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں زیادہ آئی ہے۔ اضافے کی شرح 81.13فیصد رہی۔ صوبہ پنجاب کی فیکٹریوں میں 37لاکھ 36ہزار749گانٹھ کپاس آئی ہے جو گذشتہ سال کی اسی مدت میں فیکٹریوں میں آنے والی فصل25لاکھ15ہزار167گانٹھ کپاس سے 12لاکھ21ہزار582گانٹھ زائدہے۔ پنجاب میں اضافے کی شرح48.57فیصد رہی۔صوبہ سندھ کی فیکٹریوں میں 40لاکھ 16 ہزار 724گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے جو کہ گذشتہ سال اسی مدت میں فیکٹریوں میں آنے والی فصل 17لاکھ 65ہزار 333گانٹھ کپاس سے 22لاکھ51ہزار391گانٹھ زیادہ ہے۔صوبہ سندھ میں اضافے کی شرح 127.53فیصدرہی۔30نومبر 2023تک فیکٹریوں میں آنے والی کپاس سے75 لاکھ30ہزار392گانٹھ روئی تیار کی گئی۔ ملک میں 415جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں۔ ایکسپورٹرز/ٹریڈرز نے رواں سیزن میں 2 لاکھ 90 ہزار 626 گانٹھ روئی خرید کی ہے جبکہ ٹیکسٹائل سیکٹرنے 67لاکھ 55ہزار905گانٹھ روئی خرید کی ہے۔ ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان(TCP)نے کاٹن سیزن 2023-24میں خریداری نہیں کی ہے۔ صوبہ پنجاب میں 286جننگ فیکٹریاں آپریشنل ہیں اور35لاکھ98ہزار680گانٹھ روئی تیار کی گئی ہے۔ ضلع ملتان میں 30نومبر2023تک 60ہزار 653گانٹھ کپاس،ضلع لودھراں میں 88ہزار347گانٹھ کپاس،ضلع خانیوال میں 2لاکھ 12ہزار 710گانٹھ کپاس، ضلع مظفر گڑھ میں 76 ہزار266گانٹھ کپاس،ضلع ڈیرہ غازی خان میں 3لاکھ26ہزار266گانٹھ کپاس، ضلع راجن پور میں 31ہزار565گانٹھ کپاس ضلع لیہ میں 2 لاکھ13 ہزار58گانٹھ کپاس،ضلع وہاڑی میں 2لاکھ 8 ہزار 872گانٹھ کپاس، ضلع ساہیوال میں 1 لاکھ 80ہزار666گانٹھ کپاس، ضلع رحیم یار خان میں 5لاکھ49ہزار485گانٹھ کپاس،ضلع بہاولپورمیں 4لاکھ 49ہزار 731گانٹھ کپاس، ضلع بہاولنگر میں 9لاکھ26ہزار337گانٹھ کپاس فیکٹریوں میں آئی ہے۔

About author