برطانیہ میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ
— February 3, 2024
مانچسٹر ( اے آئی اے ) برطانیہ میں کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ تفصیلات کے مطابق برطانیہ میں سال 2050 تک کینسر سے اموات 50 فیصد تک ہوسکتی ہیں، مریضوں کی تعداد 6 لاکھ سے تجاوز ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے . انٹرنیشنل ایجنسی فار ریسرچ آن کینسراور ڈبلیو ایچ او کے ماہرین نے برطانیہ سمیت 115 ممالک میں کینسر کے ڈیٹا کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ کی خواتین میں چھاتی کا کینسر سب سے زیادہ تشخیص شدہ کینسر ہے ، پروسٹیٹ کینسر مردوں میں سب سے زیادہ تشخیص کیا جاتا ہے۔ پھیپھڑوں اور آنتوں کے کینسر کی تشخیص مردوں اور عورتوں دونوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ آئی اے آر سی اور ڈبلیو ایچ او نے اگلے 26 سال میں برطانیہ میں کینسر سے ہونے والی اموات کی تعداد میں تیزی سے اضافے کی پیش گوئی بھی کی ہے اور عالمی سطح پر بھی کیسز میں اضافہ متوقع ہے۔ سال 2022 میں برطانیہ میں کینسر کی وجہ سے 181,807اموات ہوئیں 2050میں یہ تعداد بڑھ کر 279,004تک پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے جو 53فیصد اضافہ ہوگا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ حکام کو خطرے کو کم کرنے کیلئے ابھی سے ٹھوس بنیادوں پر کام کرنا چاہئے۔ ورلڈ کینسر ریسرچ فنڈ میں تحقیق پالیسی اور اختراع کے ڈائریکٹر معروف ڈاکٹرPanagiota Mitrou نے کہا کہ یہ نئے اندازے ظاہر کرتے ہیں کہ آنے والے برسوں میں کینسر کا بڑھتا ہوا بوجھ نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، کینسر کے خطرے کے اہم عوامل جیسے تمباکو نوشی، غیر صحت بخش غذا، موٹاپا، الکحل اور جسمانی غیرفعالیت سے نمٹنے میں ناکامی نے جزوی طور پر صحت کی عدم مساوات کو بڑھا دیا ہے ،ہم جانتے ہیں کہ کینسر کے تقریباً 40 فیصد کیسز کو روکا جا سکتا ہے۔ آئی اے آر سی میں کینسر سرویلنس برانچ کے سربراہ ڈاکٹر فریڈی برے نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ دنیا کی عالمی آبادی 2022 میں 8 ارب سے بڑھ کر 2050 تک تقریباً 10 ارب تک پہنچ جائے گی اور اس کا بہت زیادہ اثر نئے مریضوں پر پڑےگا۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق غیر صحت مندانہ طرز زندگی اور عمر رسیدہ آبادی کینسر کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کو ہوا دے رہی ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے پیشگوئی کی ہے کہ برطانیہ میں ہر سال کینسر سے ہزاروں اموات ہو سکتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق براعظم یورپ میں برطانویوں میں کینسر ہونے کے امکانات سب سے زیادہ ہیں ۔