ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کرادیا
— August 21, 2019
اسلام آباد ( اے آئی اے ) ایف بی آر نے سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن کیلئے آن لائن سسٹم متعارف کرادیا ہے تفصیلات کے مطابق ایف بی آر کے ممبران لینڈ ریونیو سروس ڈاکٹر حامد عتیق سرور ممبر انفارمیشن ٹیکنالوجی محمود اسلم نے گذشتہ روز میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سیلز ٹیکس کی خودکار رجسٹریشن کا طریقہ کار متعارف کروایا جارہا ہے , نیشنل ٹیکس نمبر کے حامل افراد ہی سیلز ٹیکس میں رجسٹر ہو سکیں گے ، نئے سسٹم کے تحت لوگ ٹیلی فون یا کمپیوٹر کے ذریعے آن لائن رجسٹریشن کرسکیں گے ، رجسٹریشن کے وقت افراد کو این آئی سی نمبر جبکہ کمپنیز کو این ٹی این نمبر درج کرنا ہوگا , کاغذات کی شرائط کو محدود کر دیا گیا ہے ، درکار ضروری کاغذات سکین کرکے اپ لوڈ کئے جا سکیں گے اور درخواست مکمل ہونے پر خودکار طریقے سے سیلز ٹیکس رجسٹریشن نمبر جاری ہوجائے گا، بائیو میٹرک تصدیق کسی بھی نادرا سہولت سینٹر سے 30 دنوں میں کروائی جاسکے گی , بجلی اور گیس کے کمرشل کنکشن رکھنے والے صارفین کی بھی رجسٹریشن کی جائے گی، اس وقت کمرشل صارفین 33 لاکھ ہیں جنہیں ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے ۔ محمود اسلم نے کہا سیلز ٹیکس رجسٹریشن کرانے والے اداروں کی جیوٹیگنگ کی جائے گی , نئے طریقہ کار سے جعلی سیلز ٹیکس انوائسز کی روک تھام ہوگی حامد عتیق نے کہا اس وقت ملک میں سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کی تعداد اڑھائی لاکھ ہے تاہم سیلز ٹیکس دینے والے افراد کی تعداد صرف 41 ہزار ہے ، 3 سے 4 لاکھ مزید لوگوں کو سیلز ٹیکس کے نظام میں لایا جائے گا , سالانہ 6 لاکھ یا اس سے زیادہ بجلی بل دینے والے کاروباری افراد کو بھی ٹیکس نیٹ میں لائیں گے ، ماہانہ 50 ہزار بجلی بل اور ایک ہزار مربع فٹ سے بڑی دکان والے ریٹیلرز کی رجسٹریشن ترجیح ہے ، صنعتی کنکشن رکھنے والوں کی بھی رجسٹریشن کی جائے گی انہوں نے کہا خریداری کی تمام رسیدوں پر ایس ٹی آر این درج ہونا ضروری ہے , شہری اس ایس ٹی آر این کی ذریعے ایف بی آر سے ٹیکس جمع ہونے کا چیک کرسکتے ہیں , اینڈ رائیڈ ایپ کے ذریعے انوائس کی تصویر ایف بی آر کو بھجوائی جاسکتی ہے ، ایف بی آر کو رسید بھجوانے والے کو موقع پر پانچ فیصد سیلز ٹیکس واپس کردیا جائے گا ممبر ایف بی آر ریونیو سیما شکیل نے کہا که ایک لاکھ ‘ہائی نیٹ ورتھ’ افراد کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے نوٹسز جاری کردیئے جبکہ مزید ایک لاکھ افراد کو نوٹس جاری کریں گے ، نوٹسز کے اجرا کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا ، نوٹسز بینک سے رقوم نکلوانے سمیت معاشی سرگرمیوں کی بنیاد پر جاری کیے جائیں گے اگر ایک شخص نے سو ملین روپے بینک سے نکالے ہیں لیکن وہ این ٹی این نہیں رکھتا تو یہ بہت الارمنگ ہے , تمام نوٹسز سسٹم سے بھیجے جاتے ہیں اس لئے اب نوٹس کو پھاڑ کر نہیں پھینکا جاسکتا جبکہ ملک بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں سے بے نامی اکائونٹس اور مشکوک بھاری ٹرانزیکشنز کی تفصیلات موصول ہوگئی ہیں