تاجروں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے , چیئرمین ایف بی آر

تاجروں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے , چیئرمین ایف بی آر

 


اسلام آباد ( اے آئی اے ) ملک بھر میں تاجروں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ان خیالات کا اظہار فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کے چیئرمین سید شبر زیدی نے ترجمان ایف بی آر ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی حامد عتیق سرور کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا شبر زیدی نے کہا ملک بھر میں تاجروں کے ساتھ بات چیت اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے ایس آر او  1125 جو  برآمدات پر زیرو ریٹنگ سے متعلق ہے اور سیلز ٹیکس کیلئے قومی شناختی کارڈ سے متعلق شرط کے بارے میں غلط فہمیاں اور ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے  انہوں نے کہا کہ ہم ایسا کوئی بھی اقدام نہیں کریں گے جس سے ٹیکسٹائل سمیت ملکی صنعت اور تجارتی شعبے کو نقصان پہنچے  حکومت اور تاجر برادری کے درمیان کوئی ڈیڈ لاک نہیں ہم نے چھوٹے دکانداروں کیلئے فکسڈ ٹیکس سکیم لانے کی تجویز دی ہے لیکن اس کیلئے طریقہ کار طے کرنا ہو گا کیونکہ دس بائی دس سنار کی دکان اور سو بائی سو لوہار کے مابین واضح فرق ہو تا ہے , پورے ملک میں تاجروں کی کوئی ایک نمائندہ تنظیم نہیں ہے , قومی شناختی کارڈ کی آڑ میں وہ مسائل بھی سامنے لائے جا رہے ہیں جن کا ایشو سے کوئی تعلق نہیں ہوتا , انہوں نے کہا سیلز ٹیکس کیلئے 47ہزار رجسٹرڈ ٹیکس گزاروں میں صرف 19 ہزار ٹیکس دے رہے ہیں ایف بی آر نے ہدایت کی ہے کہ اِنکم ٹیکس قانون کے تحت ایسے تمام افراد جو 500 مربع گز سے زیادہ کے گھر یا 1000 سی سی سے زیادہ کی گاڑی رکھتے ہیں وہ ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے پابند ہیں اپٹما سمیت تمام فریقوں کی مشاورت سے اقدامات کئے جائیں گے ، ٹیکسٹائل کی صنعت کو نقصان پہنچانے والا کوئی بھی فیصلہ نہیں کریں گے ، شناختی کارڈ کی شرط صرف سیلز ٹیکس کے حوالے سے ہے ، 22 کروڑ کی آبادی میں 47 ہزار رجسٹرڈ سیلز ٹیکس دہندگان میں صرف 19 ہزار سیلز ٹیکس دے رہے ہیں ایف بی آر  کے چیئرمین سید شبر زیدی نے مزید کہا ہے که حکومت نے آٹے پر بجٹ میں کوئی ٹیکس نہیں عائد کیا ہے لہذا روٹی اور نان کی قیمت میں اضافہ کا کوئی جواز نہیں ، اشیائے خوردونوش پر ٹیکس کے حوالے سے گمراہ کن افواہیں پھیلائی جارہی ہیں

About author