جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیئے مقدمات کا اندراج اور موثر تفتیش وقت کا تقاضا ہے ، ڈاکٹر کلیم امام
— March 18, 2019
کراچی ( اے آئی اے ) جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیئے مقدمات کا اندراج اور موثر تفتیش وقت کا تقاضا ہے ان خیالات کا اظھار آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے سی پی او میں عوامی شکایات ازالہ میکنزم کے حوالے سے ویڈیو کانفرنسنگ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا اجلاس میں سابق آئی جی طارق کھوسہ کے علاوہ تمام ایڈیشنل آئی جیز ، ڈی آئی جیز ، ضلعی ایس ایس پیز سمیت سی پی او کے تمام افسران بھی موجود تھے اس موقع پر اجلاس کو صوبائی سطح پرعوامی شکایات ازالہ میکنزم کے تحت جاری جملہ امور واقدامات سمیت مفاد عامہ کی ترجیحات پر مشتمل تفصیلات پر بریفنگ دی گئی اجلاس کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات کی روشنی میں اس وقت سندھ پولیس رینج/ ڈسٹرکٹس میں 39 عوامی شکایات ازالہ سیلز باقاعدہ مصروف عمل ہیں اورایس ایس پیز/ ڈی ایس پیز رینک کے افسران تفویض کردہ ذمہ داریوں کو بطریق احسن انجام دے رہے ہیں ڈاکٹر کلیم امام نے کہا کہ لوگوں کے مسائل اور مشکلات کے ازالے یا جرائم سے متاثرہ شہریوں کی ایف آئی آر کے اندراج میں تھانہ سپروائزری افسران ایسا ہرگز نہ سوچیں کہ ان کی کارکردگی پر کوئی حرف آئے گا جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے لیے کیسز کا اندراج اور موثر تفتیش وقت کا تقاضا ہے ۔ عوامی شکایات ازالہ سیلز سی پی او سے سینٹرلائزڈہوں گے اور انہیں کمپیوٹرز بھی فراہم کردیئے گئے ہیں آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے کہا کہ مقدمات کے اندراج میں پس وپیش و تاخیری حربوں سے کام لینے والے یا واضح انکار کرنیوالے پولیس افسران و دیگر اسٹاف کی محکمہ پولیس میں کوئی گنجائش نہیں ہے