عوام این ایچ ایس میں لمبی قطاروں کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں

عوام این ایچ ایس میں لمبی قطاروں کا ذمہ دار حکومت کو سمجھتے ہیں


لندن ( اے آئی اے ) برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کاکہنا ہے کہ عوام این ایچ ایس میں لمبی قطاروں کا ذمہ دارحکومت کو سمجھتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کاکہنا ہے کہ ایک ہزار 765افراد کے سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ حکومت کی جانب سے انتظارکی طویل فہرستوں کی ذمہ داری ڈاکٹروں پر ڈالنے کی کوشش کو عوام نے قبول نہیں کیا ہے برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کاکہنا ہے کہ عوام این ایچ ایس میں لمبی قطاروں کا ذمہ دارحکومت کو سمجھتے ہیں 5میں سے 2سے زیادہ لوگوں نے انتظار کی لمبی فہرستوں کاذمہ دار حکومت کو قرار دیا جب کہ صرف 15فیصد افراد نے ہڑتالی ڈاکٹروں کو اس کا ذمہ دار قراردیا ہے 20فیصد سے زیادہ کنزرویٹو ارکان نے حکومت کو اس طویل فہرست کا ذمہ دار قراردیا۔ برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کا کہناہے کہ کنزرویٹو ارکان کی جانب سے حکومت پر تنقیداس اعتبارسے زیادہ اہمیت رکھتی ہے کہ پارٹی اس ہفتے مانچسٹر میں اپنی سالانہ کانفرنس کر رہی ہے۔ جونیئر ڈاکٹر اورکنسلٹنٹس منگل کومانچسٹر میںایک ریلی نکالیں گے جبکہ ریڈیو گرافرز بھی صبح 8 بجے سے 24 گھنٹے کی ہڑتال کریںگے۔ بی ایم اے کا کہنا ہے کہ وزیراعظم انتظار کی لمبی فہرستوں کے حوالے سے ہمیشہ ہڑتالی ڈاکٹروں کوقربانی کا بکرا بناتے رہے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ٹوریز کے گزشتہ 13 سالہ دور حکمرانی میں علاج کے منتظر مریضوں کی تعداد 5 ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ ہیلتھ اور سوشل کیئر کے وزیر اسٹیو بارکلے نے جونیئر ڈاکٹروں اورکنسلٹنٹس کی مربوط ہڑتال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے این ایچ ایس کے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اورعلاج معالجے میں مزید تاخیر ہوگی۔ جونیئر ڈاکٹروں اورکنسلٹنٹس نے تنخواہوں کے مسئلے پر 3روزہ ہڑتال شروع کردی ہے۔ ہڑتال شروع ہونے کے بعد سے مجموعی طور پر ایک لاکھ 30ہزار اندرونی اور بیرونی مریضوں کے اپائنٹمنٹ ری شیڈول کرنا پڑے ہیں۔ ڈاکٹروں کے ان دونوں طبقوں نے این ایچ ایس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس مہینے کے اوائل میں ہڑتال کی تھی

About author