قومی اسمبلی نے الطاف کی پاکستان مخالف تقریر اور نعروں کے خلاف قرارداد مذمت اتفاق رائے سے منظور کرلی

قومی اسمبلی نے الطاف کی پاکستان مخالف تقریر اور نعروں کے خلاف قرارداد مذمت اتفاق رائے سے منظور کرلی

NA
اسلام آباد  ( اے آ ئی اے )  قومی اسمبلی نے 22اگست کو الطاف کی پاکستان مخالف تقریر اور نعروں کے خلاف قرارداد مذمت اتفاق رائے سے منظور کرلی‘ ایم کیو ایم کے ارکان سمیت تمام پارلیمانی جماعتوں نے قرارداد کی حمایت کی۔ قرارداد وفاقی وزیر امور کشمیر چودھری برجیس طاہر نے ایوان میں منظوری کے لئے پیش کی۔ ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار اور وزیر ریاستیں و سرحدی امور جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے قرارداد پر اظہار خیال کیا‘ قرارداد پر بحث پیر کو بھی جاری رہے گی‘ قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان کراچی پریس کلب کے باہر ایم کیو ایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ میں 22اگست کو پاکستان کے خلاف تقریر اور پاکستان مخالف نعرے لگانے پر الطاف کی اشتعال انگیز اور متنازعہ تقریر‘ ملک کی اساس اور سالمیت پر حملے‘ میڈیا ہائوسز بالخصوص اے آر وائی پر حملوں کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ یہ ایوان کی جانب سے بھی کسی قسم کے جرائم دہشت گردی اور پاکستان مخالف نعروں کی مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتا ہے کہ ان افراد کے خلاف قانون آئین کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ یہ ایوان پارلیمنٹ‘ میڈیا‘ افواج‘ عدلیہ اور دستور کے تحت کام کرنے والے تمام اداروں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ فاروق ستار نے کہا کہ مجھے بھی قرارداد پڑھنے کا موقع ملتا تو ہمارا موقف بھی سامنے آتا 22 اگست ہمارے لئے سب سے برا دن تھا تحریک کے بانی نے لکیر کھینچی تو ہم نے بھی لکیر کھینچ لی۔ ڈیڑھ انچ کی الگ مسجد بنانے کی بجائے پوری مسجد کو محفوظ کیا۔ الطاف سے مکمل قطع تعلق کرلیا میں آپ سب کے شک و شبہ کو سمجھ سکتا ہوں کہ کیا پاکستان کی سلامتی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرسکتا ہے۔ ہمارے آبائو اجداد نے پاکستان کے لئے آگ و خون کے دریا عبور کئے تھے ہمارے آبائو اجداد پاکستان کے بانی تھے۔ پاکستان کے ساتھ ہماری محبت غیر مشروط ہے ایک بیان کی پاداش میں سارے مہاجروں کو دیوار کے ساتھ لگانے کی اجازت نہیں دیں گے اس لئے اس بیان سے قطع تعلق کیا ہے امید ہے یہ ایوان بھی ہماری عزت نفس کا خیال رکھے گا۔ پاکستان کے خلاف نعرہ لگانے والوں کو تو پوری قوم نے مسترد کردیا معاملہ یہ ہے کہ پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو قبول کیا جائے ۔ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ بانیان پاکستان کا تعلق پورے پاکستان سے ہے صرف ایک شہر میں رہنے والے بانیان پاکستان کی اولاد نہیں ہیں۔ 1947ء میں آگ اور خون کے دریا عبور کرکے پاکستان آنے والے لوگوں میں سے 95 فیصد کا تعلق پنجاب سے تھا پانچ فیصد دوسرے صوبوں میں آباد ہوئے ۔ پاکستان کے خلاف بات کرنیوالے شخص کے خلاف ریاست سزا دینے کے لئے ضروری کارروائی کاروائی کرے۔  ہم واضح طور پر پاکستان مخالف نعروں کی شدید مخالفت اور ایم کیو ایم کے بانی سے لاتعلقی کا اعلان کر چکے ہیں۔ فاروق ستار نے قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا بانی متحدہ نے 22 اگست کو خودکش تقریر کی۔ مینڈیٹ پاکستان زندہ باد کا ہے۔ انحراف پر بانی کو علیحدہ کر دیا ہے۔ خود اپنے بانی کے خلاف قرارداد پیش کرنا چاہتے تھے حکومت اپوزیشن مشترکہ قرارداد کی بھی حمایت کرتے ہیں۔ ملی بھگت کہہ کر ڈرا ہوا بھی کہتے ہیں۔ مصطفی کمال کنفیوژن پیدا کرتے ہیں۔ ایک فرد اور ان کے بیان سے مسئلہ ہے تو ہم نے انہیں الگ کیا، ان سے الگ ہوئے۔ آئین کے تقاضے پورے کریں اور ہمیں کام کرنے دیں۔ عبدالقادر بلوچ نے واضح کیا کہ پاکستان کیخلاف کوئی بات برداشت نہیں کی جائیگی‘ پاکستان کیلئے ہر قبیلے‘ علاقے کے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں‘ 95 فیصد سے زائد ترک وطن کرنے والوں کا تعلق پنجاب سے تھا‘ پاکستان کا جھنڈا 1984ء میں کس نے جلایا؟ بھارت میں جاکر پاکستان بنانے کو سب سے بڑی غلطی کس نے کہا؟ اس سے پوری قوم آگاہ ہے ٗ فاروق ستار کو اپنی جماعت کو قابل قبول بنانے کیلئے اقدامات کرنا ہوں گے۔ ایم کیو ایم کے خلاف انتقامی کارروائیاں نہیں ہوئیں خوشی ہے کہ فاروق ستار اب الطاف بھائی نہیں الطاف حسین کہتے ہیں۔

About author