مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم سے علیحدگی اور نئی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا

مصطفیٰ کمال نے ایم کیو ایم سے علیحدگی اور نئی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا

mustafa kamal

کراچی ( اے آ ئی اے ) کراچی کے سابق ناظم مصطفیٰ کمال نے پاکستان واپسی کے بعد پہلی پریس بریفنگ میں ایم کیو ایم سے علیحدگی اور نئی جماعت بنانے کا اعلان کر دیا ہے تفصیلات کے مطابق مصطفیٰ کمال نے اچانک وطن واپس آ کر ‘اہم پریس کانفرنس’ کا اعلان کیا تھا، پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ انیس قائم خانی بھی موجود تھے۔  انہوں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے قائد الطاف حسین کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔  تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس پریس بریفنگ میں انہوں نے کہا کہ ہم صرف دو لوگ ایک ایسی پارٹی کی بنیاد رکھ رہے ہیں کہ جس کا کوئی نام نہیں ہے۔ مصطفیٰ کمال نے پاکستانی سبز ہلالی پرچم دکھاتے ہوئے کہا یہ ہماری پارٹی کا جھنڈا ہے۔ انہوں نے اس بات کی سختی سے تردید کی کہ وہ ٹیکنو کریٹ حکومت کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے آنے والے کامیاب نہیں ہوتے، ورنہ سندھ میں پیر پگارا کا وزیر اعلیٰ ہوتا۔ انھوں نے پاکستانیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بہت ٹکڑوں میں بٹ چکا ہے لیکن میں اس پاکستان کے جھنڈے کے رنگ نکال کر اس میں کچھ اور رنگ ڈال کر اسے مدھم نہیں کرنا چاہتا۔ پارٹی بنانے کا مقصد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں مقامی حکومتوں کا نظام چاہتے ہیں، اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی ضروری ہے سابق سٹی ناظم کراچی نے کہا کہ ہماری جماعت ملک میں صدارتی نظام چاہتی ہے جس میں عوام صدر کو براہ راست منتخب کریں اور وہ پروفیشنل ٹیم چن کر اپنی کابینہ بنائے۔ ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا میں پارٹی کا سسٹم جانتا تھا، مجھے معلوم تھا کہ پارٹی چھوڑ دی تو جان کو خطرہ ہوگا۔ مصطفی کمال نے ملک سے جانے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ کسی نے ہماری کوئی شوگر مل نہیں چھینی تھی، مجھے سینیٹر بنے صرف 6 ماہ ہوئے تھے اور ساڑھے 5 سال مزید سینیٹر رہنا تھا جبکہ انیس قائم خانی رابطہ کمیٹی کے ممبر تھے لیکن انہوں نے بھی ممبر شپ چھوڑ دی اور ہم ملک چھوڑ کر چلے گئے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 2008 سے 2013 کے دوران ایم کیو ایم نے 4 بار حکومت چھوڑی اور دوبارہ حکومت میں شامل ہوئے، تمام فیصلے فرد واحد الطاف حسین کرتے تھے جبکہ 2013 میں انتخابات ایم کیو ایم اور مہاجروں کے علاقوں میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو لاکھوں ووٹ ملے، جس کے بعد امید تھی الطاف حسین اب کوئی ہوش کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 19 مئی 2013 کو نشے میں دھت ہو کر الطاف حسین نے کارکنوں کو جمع کر کے ذمہ داران سے برا سلوک کیا، پہلے رابطہ کمیٹی مہینوں میں ‘ذلیل’ ہوتی تھی جبکہ اب گھنٹوں اور منٹوں میں بے عزت ہوتی رہتی ہے۔ ایم کیو ایم قائد پر شدید تنقید کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ شراب نوشی کی وجہ سے پہلے وہ رات میں تقریر نہیں کرسکتے تھے، اب ان سے دن میں بھی تقریر نہیں ہوتی۔ پریس کانفرنس کے دوران وہ آبدیدہ نظر آئے، ان کی آنکھوں سے آنسو نکلتے رہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ 2010 میں عمران فاروق کے قتل کے بعد اسکاٹ لینڈ یارڈ نے الطاف حسین سمیت ایم کیو ایم کی لندن میں موجود قیادت کو انٹرویوز کے لیے طلب کرنا شروع کر دیا جبکہ انہیں تین روز تک برطانوی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پوچھ گچھ کی۔ برطانوی حکام نے ایم کیو ایم کی قیادت سے را سے تعلقات کے حوالے سے سوالات کیے جسے ابتدائی طور پر مسترد کر دیا گیا تاہم اسکاٹ لینڈ یارڈ کی جانب سے دستاویز پیش کرنے کے بعد الطاف حسین سمیت قیادت نے را کی حمایت کا اعتراف کر لیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما رحمٰن ملک ایم کیو ایم کے اعلامیے لکھواتے رہے ہیں، الطاف حسین اور رحمن ملک کی لندن میں 9,9 گھنٹے تک بیٹھک رہتی تھی۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے الطاف حسین صاحب کے لیے دشمنیاں کیں اور ان کی ذات کے لیے دشمن بنائے لیکن الطاف حسین کو کسی ایک کارکن، کسی مہاجر، کسی انسان کی فکر نہیں ہے، جب کسی کارکن کی لاش پر سیاست کرنی ہو تو اس کی لاش جناح گراؤنڈ میں رکھ کر پوائنٹ اسکورنگ کر لی جاتی ہے، ہم نے الطاف حسین کے لیے یہ بھی نہیں دیکھا کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ انہوں نے الطاف حسین کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تحریکوں میں قربانیاں ہوتی ہیں لیکن قربانیاں دینے کا مقصد تو بتائیں، مقصد بتائیں گے تو قربانی دیں گے، پہلے ہم محب وطن لوگ تھے، اب ‘را’ کے ایجنٹ ہوگئے۔ ان کا کہنا تھا کہ الطاف حسین کے لیے ہماری 2 نسلیں تباہ ہوگئیں، 35 سال پہلے اپنے باپ کو دفنانے والے اب اپنے بیٹوں کو دفنا رہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ مجھے پتہ تھا کہ جنوبی افریقہ اور ہندوستان کا سیٹ اپ رکھنے والے لڑکے یہاں مارنے کا کام کرتے ہیں، مجھے پتہ تھا کہ یہاں رہتا تو میرے اور میرے اہلخانہ کی جان کو خطرہ ہوسکتا تھا، زکوٰة فطرے کی رقم مقصد الطاف حسین کی شراب کے پیسے جمع کرنا ہے، کیا ہم نے قربانیاں اس لیے دیں کہ الطاف حسین لندن اور کینیڈا میں پراپرٹی بنائیں۔ ایم کیو ایم کے قائد کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کے ہر شہری، جماعت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ساتھ غیر ملکی اداروں کو معلوم ہے کہ الطاف حسین کے را سے تعلقات ہیں، یہ سب کسی اور نے نہیں بتایا بلکہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے بعد اسکاٹ لینڈ والوں نے ان کے گھر پر تفتیش کی تو وہ ان کے گھر سے ٹرک بھر کر سارے دستاویزات لے کر گئے تھے، جس کے بعد انھوں نے ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کےاہم لوگوں کو انٹرویو کے لیے بلانا شروع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ الطاف حسین اپنی قوم سے اپنے کارکنان سے یہ فرما رہے ہیں کہ وہ اس ملک کے محب وطن لیڈر ہیں، پاکستان کے 98 فیصد لوگوں کے نجات دہندہ ہیں اور چونکہ انھوں نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بات کی ہے، اس لیے سب ان کے خلاف صف آراء ہیں جبکہ کارکنان یہ سمجھ رہے ہیں کہ قائد بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اور رینجرز اور اسٹیبلشمنٹ ہمارے خلاف ہے، اس لیے وہ ان سے لڑ رہے ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم کیو ایم کے قائد لاشوں پرسیاست کرتے تھے، وہ لاشوں کی سیاست پر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرتے اسی لیے ان کو لاشیں درکار ہوتی ہیں، الطاف حسین کو 2 نسلیں کھا جانے کے بعد بھی ترس نہیں آرہا، ان کو 7، 8 ہزار لاشیں چاہئیں تاکہ وہ ان پر سیاست کرسکیں، الطاف حسین کو کراچی میں ہر وقت 4,5 لاشیں گرانا پسند ہے۔ انہوں نے صولت مرزا اور اجمل پہاڑی کے ساتھ ساتھ عمران فاروق کے قتل کرنے والے ملزم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا یہ تمام افراد پیدائشی قاتل تھے؟ صولت مرزا کو شاہد حامد کا قاتل کس نے بنایا؟ وہ تو شاہد حامد کو جانتا بھی نہیں ہوگا، پارٹی نے اس کو پہچاننے سے انکار کر دیا، یہ ہمیں کہاں لے جایا گیا ہے، مہاجر برادری کو الطاف حسین کی وجہ سے ‘را’ کے ایجنٹ تصور کیا جا سکتا ہے، عوام الطاف حسین کی وجہ سے را کا ایجنٹ نہ سمجھے، الطاف حسین کے اعمال کی وجہ سے اردو بولنے والوں سے نفرت نہ کریں، یہ بھی باقی صوبوں کے لوگوں کی طرح محب وطن ہیں۔ الطاف حسین کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ‘یہ آدمی ہمیں کہاں لے گیا’، مصطفیٰ کمال یہ کہتے ہوئے شدید جذباتہ ہو گئے اور بے اختیار رو پڑے، اور مزید کہا کہ الطاف حسین توبہ کریں اور بربادی کا سفر روک دیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ کا ملٹری ونگ پاکستان میں بیتھ کر نہیں چلتا بلکہ اس کو باہر سے کنٹرول کیا جاتا ہے۔ قبل ازیں 4 سال تک کراچی کے ناظم رہنے والے مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس کا اعلامیہ ایم کیو ایم کے غیر فعال رہنما انیس قائم خانی نے جاری کیا۔ اعلامیے میں پریس کانفرنس کے مقام کے طور پر ٖڈیفنس کے ایک بنگلے کا پتہ درج ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما عمومی طور پر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو پر پریس کانفرنسز کرتے ہیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کا کہنا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ پریس کانفرنس کس موضوع پر ہوگی۔

About author