نواب اکبر بگٹی کے مقدمہ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت تین نامزد ملزمان کو بری کر دیا
— January 18, 2016
کوئٹہ (اے آ ئی اے ) کوئٹہ میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کے مقدمہ قتل میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سمیت تین نامزد ملزمان کو بری کر دیا ہے۔ نواب محمد اکبر خان بگٹی 26 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے ترتانی میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ہلاک ہو گئے تھے۔ بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر ان کی ہلاکت کا مقدمہ تین سال بعد اکتوبر 2009 میں درج کیا گیا تھا۔ اس مقدمے کے ملزمان میں سابق صدر پرویز مشرف کے علاوہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ، سابق صوبائی وزیر داخلہ شعیب احمد نوشیر وانی، سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی، سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف اور سابق ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی عبدالصمد لاسی شامل تھے۔ پیر کو اس مقدمے کے فیصلہ سناتے ہوئے انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک کے جج جان محمد گوہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے پرویز مشرف کے علاوہ آفتاب احمد شیر پاؤ اور شعیب نوشیروانی کو بھی بری کرنے کا حکم دیا۔ مقدمے کے بقیہ تین ملزمان شوکت عزیز، اویس غنی اور عبدالصمد لاسی کو اس مقدمے میں مفرور قرار دیا جا چکا ہے۔ اس مقدمے کے ایک ملزم سابق وزیر اعلیٰ جام محمد یوسف کا نام ان کی وفات کے بعد پہلے ہی مقدمے سے نکالا جا چکا ہے۔ عدالت نے نواب بگٹی کے صاحبزادے نوابزادہ جمیل اکبر بگٹی کی جانب سے اپنے والد کا ڈی این اے ٹیسٹ اور قبر کشائی اقوام متحدہ کی نگرانی میں کروانے کی درخواستیں بھی مسترد کر دیں۔ فیصلے کے بعد نواب جمیل بگٹی کے وکیل سہیل راجپوت نے کہا کہ اس فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کیا جائے گا۔ انھوں نے مقدمے میں تفتیشی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقدمے میں ان کے موکل کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا۔