پاکستان کی معروف ادیبہ اور ڈراما نگار فاطمہ ثریا بجیا انتقال کر گئیں

پاکستان کی معروف ادیبہ اور ڈراما نگار فاطمہ ثریا بجیا انتقال کر گئیں

fatima_surayya_bajia

کراچی ( اے آ ئی اے )  پاکستان کی  معروف ادیبہ اور ڈرامہ نگار فاطمہ ثریا بجیا بدھ کے روز کراچی میں 85 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں، وہ یکم ستمبر 1930 کو بھاررتی شہر حیدرآباد کے ضلع کرناٹک میں پیدا ہوئیں تھیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی ایوارڈ اور ہلال امتیازسے بھی نوازا جا چکا ہے، فاطمہ ثریا بجیا کے مشہور ڈراموں میں عروسہ، آگہی، شمع، سسی پنوں شامل ہیں، معروف میزبان، اداکار، شاعر انور مقصود فاطمہ ثریا بجیا کے بھائی ہیں۔ گورنر سندھ ، وزیر اعلی سندھ اور صوبائی وزراء اور مختلف سماجی و ادبی حلقوں نے مرحومہ کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبول ترین ڈراما رائٹر اور ادبی دنیا میں معروف شخصیت فاطمہ ثریا بجیا 85 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئیں۔ فاطمہ ثریا بجیا تقسیم ہند کے فوراً بعد اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان آگئیں انہوں نے ٹیلی وژن کے علاوہ ریڈیو اور اسٹیج پر بھی کام کیا جبکہ سماجی اور فلاحی حوالے سے بھی ان کے کام قابل قدر ہیں، ان کا خاندان بھی ادبی دنیا میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یکم ستمبر 1930 کو ضلع کرناٹک میں پیدا ہونے والی فاطمہ ثریا بجیا مقبول ترین ڈرامہ رائٹر تھیں، ان کے لکھے گھریلو ڈرامے ہر دور میں سب کی پسند رہے ہیں۔  ان کے بیشتر ڈرامے جیسے شمع، افشاں، عروسہ اور انا بہت بڑی کاسٹ اور بڑے خاندانوں کے مسائل کی بہترین عکاسی کرتے رہے ہیں جبکہ انارکلی، زینت، آگہی، بابر اور سسی پنوں ان کے مقبول ترین ڈراموں میں سے چند نام ہیں۔ 1997 میں ان کو حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا اس کے علاوہ انہیں کئی قومی اور بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں جاپان کا اعلی سول ایوارڈ بھی شامل ہے۔ 2012 میں ان کو صدر پاکستان کی طرف سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا۔ انہوں نے سندھ حکومت کی مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے بھی خدمات سرانجام دیں جبکہ ان کے خاندان میں اور بھی مشہور شخصیات ادبی دنیا میں مصروف عمل ہیں جیسے کہ بھائیوں میں احمد مقصود اور انور مقصود بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق شامل ہیں۔

About author