افغانستان میں ریڈ کراس کے 5  اہلکار اغواء

افغانستان میں ریڈ کراس کے 5 اہلکار اغواء

redcross

کابل ( اے آ ئی اے  ) افغانستان میں عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے مقامی عملے کے 5 اہلکاروں کو اغوا کر لیا گیا ہے ، واقعے کے بعد ریڈ کراس نے اپنی سرگرمیاں معطل کر دیں ہیں . ایک رپورٹ کے مطابق افغان صوبہ غزنی میں عالمی امدادی تنظیم ریڈ کراس کے عملے کے پانچ افراد کو اس وقت اغوا کر لیا گیا جب وہ صوبے میں ایک ایسی شاہراہ پر سفر کر رہے تھے جہاں اکثر اغوا اور قتل کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ریڈ کراس کے مطابق وسطی افغان صوبے عزنی میں اس کے مقامی عملے کے پانچ افراد کے اغوا کے بعد اس نے وہاں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں۔ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس نے ایک ای میل بیان میں کہا کہ اس نے اغوا کاروں سے رابطہ کیا ہے اور اپنے عملے کے ارکان کی رہائی کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ تنظیم نے غزنی میں سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور افغانستان کے دیگر حصوں میں بھی سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ افغانستان میں اس سے پہلے بھی امدادی کارکنوں کو کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ تاہم بیان کے مطابق ملک کے دیگر حصوں میں ریڈ کراس کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ادھر سویڈن کی ایک امدادی تنظیم نے اس مہلک چھاپے کی مذمت کی ہے جو افغان فوج نے وسطی افغانستان میں اس کے ایک مرکز صحت پر مارا۔ سویڈش کمیٹی فار افغانستان نے کہا کہ وردک صوبے کے تانگی سیدن علاقے میں رات کو مارے جانے والے چھاپے میں دو مریضوں سمیت تین افراد ہلاک ہو گئے۔

About author