پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت

Pakistan President Pervez Musharraf responds to people gathered after the farewell ceremony on his departure the presidency in Islamabad on August 18, 2008. Musharraf resigned on 18 August, bringing down the curtain on a turbulent nine years in power to avoid the first impeachment in the nuclear-armed nation's history. The key US ally, who seized power in a 1999 coup, announced the move in a lengthy televised address, rejecting the charges against him but saying he wanted to spare Pakistan a damaging battle with the ruling coalition. AFP PHOTO/Farooq NAEEM (Photo credit should read FAROOQ NAEEM/AFP/Getty Images)

اسلام آباد ( اے آ ئی اے )  سپریم کورٹ پاکستان  نے سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق  جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے، پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) سے نکالنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاق کی درخواست کی سماعت کی۔ پرویز مشرف کے وکیل بیرسٹر فروغ نسیم نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کے موکل کی طبیعت انتہائی ناساز ہے اور ان کا علاج کے لیے بیرون ملک جانا بہت ضروری ہے۔ اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیئے کہ پرویز مشرف کے خلاف کئی کیسز زیر سماعت ہیں اس لیے ان کا نام ای سی ایل سے نکالنا مقدمات کی سماعت کو متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت فریقین کے دلائل سننے کے بعد وفاق کی درخواست مسترد کردی اور سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے سابق صدر کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ سناتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ واضح رہے کہ غداری کیس میں خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو 31 مارچ کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے جون 2014 میں پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی، جس میں اعلی عدالت سے ہائی کورٹ کا فیصلہ معطل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

About author