کے الیکٹرک کی مبینہ اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا

کے الیکٹرک کی مبینہ اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کا دھرنا

k electric

کراچی ( اے آ ئی اے ) جماعت اسلامی پاکستان نے کے الیکٹرک کے خلاف دھرنا دے دیا تفصیلات کے مطابق  کے الیکٹرک کی مبینہ اووربلنگ اور لوڈشیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی نے دھرنا دے دیا۔ کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس کے سامنے دھرنے میں ہر عمر کے افراد شریک ہوئے۔ جماعت اسلامی کی قیادت نے دعویٰ کیا کہ کے الیکٹرک شہریوں کو زائد بل بھیج رہی ہے جبکہ لوڈشیڈنگ نے شہر قائد کے باسیوں کی مشکلات بڑھا دی ہیں۔  کے الیکٹرک کے ہیڈ آفس پر دھرنے میں جماعت اسلامی کے کارکن بھینسیں بھی لے کر آئے۔ مظاہرین نے بھینسوں کے سامنے بین بجا کر کے الیکٹرک کے حکام کو جگانے کی علامتی کوشش بھی کی۔ جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کے الیکٹرک کراچی کے عوام سے ناجائز طور وصول کیے گئے اربوں روپے واپس کرے ، اوور بلنگ ، اوور چارجز ،لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اورفیول ایڈجسمنٹ کے نام پر لیے گئے 62ارب روپے واپس کیے جائیں ۔چھوٹے صارفین کے لیے نرخوں میں اضافہ واپس لیا جائے ، صدر ، وزیر اعظم اور گورنر کراچی کے عوام کے خلاف اس ظلم پر کیا کررہے ہیں۔ کراچی کے عوام خود کو تنہا نہ سمجھیں جماعت اسلامی ان کے ساتھ ہیں ،اگر کراچی کے عوام پر مظالم بند نہ ہوئے تو کراچی سے چترال تک پوری قوم ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائے گی۔ احتجاجی دھرنا جماعت اسلامی کراچی کے تحت کے الیکٹرک کی لوٹ مار ، چھوٹے صارفین کے لیے نرخوں میں اضافے اور کے الیکٹرک ، نیپرا اور حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف دیاگیا ۔ دھرنے کا آغاز دوپہر 12بجے ہوا جو رات گئے تک جاری رہا ۔ جس میں شہر بھر سے کے الیکٹرک کے ستائے ہوئے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور کے الیکٹرک کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔ دھرنے سے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن اور دیگر نے بھی خطاب کیا. ۔جماعت اسلامی نے عوام پر ظلم کے خلاف ہر دور میں آواز اٹھائی ہے ۔ ہمارے کارکن دبنے ،بکنے اور ڈرنے والے نہیں ہیںاور نہ ہم عوامی مفاد ات پر سودے بازی کرنے والے لوگ ہیں ۔ میٹر ریڈنگ اور اوور بلنگ کی شکایات دور کی جائیں ۔ عوام سے لوٹے گئے اربوں روپے واپس کیے جائیں ۔ ڈبل بنک چارجز ، فیول ایڈجسمنٹ کے نام پر 62ارب روپے عوام کو واپس دلائے جائیں ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے ہم سے رابطہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے مسئلہ پر بات چیت کرلو لیکن ہم انتظامیہ سے کہتے ہیں کہ آپ اپنی حیثیت کا پہلے تعین کرلیں ۔ صرف دھرنے کو ختم کرنے کے لیے کوئی بات چیت نہیں ہوگی ۔ ہمیں یقین دلایا جائے کہ میٹر رینٹ کے نام پر جو 15ارب روپے وصول کیے ہیں وہ واپس کیے جائیں گے ۔ فیول ایڈ جسمنٹ کے نام پر 62ارب روپے واپس کردیے جائیں گے ۔ لیکن کے الیکٹرک کو بچانے کے لیے نورا کشتی کو ختم کرنا چاہیئے۔ کے الیکٹرک میٹر لگانے کے لیے 5لاکھ روپے کا مطالبہ کرتا ہے ۔ ایک غریب مزدور جس کی آمدنی ماہانہ 10000ہو وہ کیسے 5لاکھ روپے ادا کرسکتا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے کے الیکٹرک کے خلاف کورٹ میں کیس جیت لیا ہے لیکن اس کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی جاتی نیپرا کے پاس جاتے ہیں تو نیپرا یہ کہہ کر بھیج دیتا ہے کہ کے الیکٹرک جو کہتا ہے وہ کرو۔ رات گئے جماعت اسلامی کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

About author