مالی سال 2017-18ءکا 47 کھرب اور 52 ارب حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا
— May 27, 2017
اسلام آباد ( اے آ ئی اے ) مالی سال 2017-18ءکا 47 کھرب اور 52 ارب حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا جس کے تحت ایڈہاک الاﺅنس کو ضم کرکے سرکاری ملازمین کی تنخواہ اور پنشن میں 10 فیصد اضافے، محنت کش کی کم سے کم اجرت ایک ہزار روپے اضافے کے ساتھ 14ہزار سے بڑھا کر 15ہزار روپے کرنے، بجٹ کے تحت لگائے گئے نئے ٹیکس اور ڈیوٹیوں میں اضافے کے نتیجے میں سیمنٹ، سریا، درآمدی کپڑے ، جوتے، گھڑیاں، سگریٹ ، پان ، چھالیہ، کاسمیٹکس، الیکٹرانکس، دوائیں مہنگی ہوگئیں جبکہ چھوٹی گاڑیاں، سمارٹ فون، موبائل کال، مرغی، بے بی ڈائپرز، ہائبریڈ کار، موٹر آئل سستا ہوگیا۔ 85 ہزار روپے سے زائد ماہانہ تنخواہ لینے والوںکو ایڈوانس ٹیکس دینا ہوگا۔1 تا 5 گریڈ کے سرکاری ملازمین ہاﺅس رینٹ الاﺅنس کٹوتی سے مستثنیٰ ہونگے ، وزیر خزانہ اسحق ڈار نے کہا پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایک منتخب وزیر اعظم اور وزیر خزانہ مسلسل پانچواں بجٹ پیش کر رہے ہیں۔ یہ چیز مضبوط جمہوریت کی عکاسی کرتی ہیں جس پر پوری قوم فخر کر سکتی ہے۔آج معتبر عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان 2030ءتک دنیاکی 20 بڑی اقتصادی طاقتوں میں شامل ہوجائےگا۔ قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ برائے 2017-18 پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس سال ہمارے جی ڈی پی میں اضافہ کی شرح 5.3 فیصد ہے جو کہ پچھلے سال میں ترقی کی بلند ترین شرح ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر مناسب سطح پر ہیں جو کہ چار ماہ کی برآمدات کے لئے کافی ہیں۔ گزشتہ 4 سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا ہے جو اوسطاً 20 فیصد اضافہ ہے۔ پچھلے چار سالوں میں فی کس آمدن 1.334 ڈالر سے بڑھ کر 1.629 ڈالر ہوئی ہے یعنی 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2008-13ءکے دوران افراط زر اوسطاً 12 فیصد سالانہ رہی جبکہ رواں سال یہ شرح 4.3 فیصد متوقع ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت نے معیشت کے استحکام کے لئے ڈسپلن پر سختی سے عمل کیا جس کے نتیجے میں خسارہ مالی سال 2012-13ءمیں 8.3 فیصد سے کم ہو کر رواں سال میں 4.2 فیصد رہ گیا ہے۔ ہم نے یہ کامیابی محصولات کی وصولی میں اضافے سے کی جس کی بنیاد انتظامی امور میں بہتری اور کئی دھائیوں دسے جاری رعایتی ایس آر او ایس کے خاتمے پر تھی۔ اس کے علاوہ حکومت کے غیر ترقیاتی اخراجات میں بھی کمی کی گئی۔ حکومت 300 یونٹ ماہانہ بجلی استعمال کرنے والے کم آمدن صارفین کے بجلی کے بلوں کی ادائیگی سبسڈی کی صورت میں جاری رکھے گی۔ بلوچستان کے کسانوں کے لئے زرعی ٹیوب ویلوں کے بجلی کے استعمال پر وفاقی حکومت سبسڈی جاری رکھے گی۔ جبکہ پورے ملک میں زرعی ٹیوب ویل کے لئے 5.35 روپے فی یونٹ آف پیک ریٹ آئندہ مالی سال میں بھی جاری رہے گا اس کا مقصد آئندہ کےلئے مالی سال کے بجٹ میں 118ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔سٹیٹ بینک کی سفارشات کے مطابق اور اسلامک فنانسنگ کی حوصلہ افزائی کے لئے ہم اسلامی بینکنگ کی مختلف اقسام مشارکہ ، اجارہ اور مرابحہ پر ٹیکسوں کی وہی شرح تجویز کرتے ہیں جو روایتی بینکنگ میں رائج ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے روزگار نوجوانوں کو سہولت دینے کے لئے تجویز کیا جاتا کہ وزیراعظم کی یوتھ لون سکیم کے تحت خریدی گئی گاڑیوں کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ دی جائے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ اس وقت وہ ٹیکس گزار جن کی آمدنی پانچ لاکھ روپے یا اس سے زیادہ ہے وہ سال گزشتہ کے ادا شدہ ٹیکس کے حساب سے چار اقساط میں ایڈوانس ٹیکس ادا کر سکتے ہیں ۔ آمدنی کی یہ حد2010 میں مقرر کی گئی تھی لہذا تجویز کیا جاتا ہے کہ آمدنی کی اس حد کو پانچ لاکھ روپے سے بڑھا کر دس لاکھ روپے کر دیا جائے تاکہ چھوٹے ٹیکس گزاروں کو سہولت مل سکے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ روزمرہ کے استعمال کی اشیاءکے تقسیم کنندگان کے منافع کی شرح کم ہے لہٰذا دفعہ 113 کے تحت ان پر ٹیکسوں کی کم ترین شرح 0.2 مقرر کی گئی ہے ۔ تاہم ان تقسیم گنندگان کو مال کی فراہمی پر عمومی شرح سے ودہولڈنگ ٹیکس لیا جاتا ہے جو کہ گزشتہ سال 4 فیصد سے کم کرکے 3 فیصد اور عام کمنپیوں کے لئے 4.5 سے کم کرکے 3.5 فیصد کیا گیا تھا ۔ یہ شرح اب بھی تقسیم کنندگان کے لئے زیادہ تصور کی جاتی ہے چنانچہ تجویز ہے کہ اس شرح کو 3.5 سے مزید کم کرکے 2.5 کیا جائے ۔ تاہم گوشوارے داخل نہ کرنے والوں کے لئے اس شرحوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ وڈ ہولڈنگ ایجنٹ کے مطالبے پر تجویز کیا جاتا ہے کہ انہیں ود ہولڈنگ ٹیکس اسٹیٹمنٹ میں غلطیوں کے لئے 60 دن میں نظرثانی کی اجازت دی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ قوانین کے مطابق ٹیکس گوشوارے داخل نہ کرنے کی صورت میں پرویژنل اسسمنٹ آرڈر کے اجراءکے 45 دن کے اندر ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے جب کہ انہیں اپیل کا حق بھی نہیں ہے ۔ عوام کے مطالبے اور ان کی جائز شکایات کے ازالے کے لئے موجودہ طریقہ کار کے خاتمے کی تجویز ہے گوشوارے داخل نہ کرنے کی صورت میں پرویژنل اسسمنٹ آرڈر کے بجائے قابل اپیل آرڈر جاری کیا جا سکے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2016-17 میں ان کمپنیوں کو قابل ادائیگی ٹیکس پر دو سال تک 20 فیصد کی چھوٹ دی جاتی تھی ۔ ایس ای سی پی نے اس اقدام کی تعریف کی اور سفارش کی کہ اسے کامیاب بنانے کے لئے مزید تین سال تک لاگو کیا جائے ۔ لہٰذا تجویز ہے کہ جو کمپنیاں اسٹاک ایکسچینج میں شامل ہو جائیں انہیں پہلے دو سال 20 فیصد جبکہ آخری تین سال میں 10 فیصد کی چھوٹ دی جائے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس کے حجم میں اضافے اور قوانین کی پاسدار کی ترغیت دینے کےلئے پچھلے سال گواشورے داخل نہ کرنے والوں کے لائف انشورنس پریمیم پر 1فیصد ایڈجسٹ ایبل ود ہولڈنگ ٹیکس متعارف کرایا گیا جہاں یہ پریمیم دو لاکھ روپے یا اس سے زائد تھا ۔ انشورنس سیکٹر کے مطالبے پر تجویز کیا جاتا ہے کہ پریمیم کی یہ حد بڑھا کر تین لاکھ روپے کردی جائے تاہم گواشورے داخل کرنے والوں کےلئے اس ٹیکس سے استثنیٰ جاری رہے گا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ اب میں انکم ٹیکس کے قوانین میں محاصل سے متعلقہ اقدامات کا ذکر کروں گا ۔ تجویز ہے کہDividendپر ٹیکس کی یکساں شرح کو 12.5فیصد سے بڑھا کر 15فیصد کیا جائے ۔ اسی طرح Matual Fundکے Dividenfdپر کم شرحوں کے حساب سے ٹیکسوں کی وصولی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ فی الوقت منافع سے حاصل شدہ آمدنی پر مرحلہ وار شرح کے حساب سے ٹیکس عائد ہے جو کہ 25سے50ملین روپے تک اور 50 ملین روپے سے زائد آمدنی پر بالترتیب 10فیصد،12.5وار15فیصد ہے ۔ اس آمدنی کی موجودہ حدوں کو بالترتیب 5ملین روپے،5سے25ملین روپے اور 25ملین سے زائد کرنے کی تجویز ہے ۔ اس اقدام سے ٹیکس کا نفاذ زیادہ مرحلہ وار برابری کی بنیاد پر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت سیکیورٹیز پر تین درجوں کے اعتبار سے کیپیٹل گین ٹیکس نافذ ہے ۔ تجویز کی جاتی ہے کہ کیپیٹل گین ٹیکس کو یکساں شرح سے نافذ کیا جائے اور فائلر کےلئے یہ شرح15فیصد جبکہ نان فائلرز کےلئے 20کرنے کی تجویز ہے ۔ اس طرح طویل مدت تک سیکیورٹیز کو روکے رکھنے کی حوصلہ شکنی ہوگی اور اسٹاک ایکس چینج میں خریدوفروخت کی حوصلہ افزائی ہوگی ۔ اس وقت ان صنعت کاروں کو جو اپنی 90فیصد فروخت سیلز ٹیکس میں رجسٹر افراد کو کرتے ہیں اپنے قابل ادائیگی ٹیکس میںتین فیصد کا ٹیکس کریڈٹ حاصل ہے چونکہ اس اقدام سے سیلزٹیکس میں رجسٹریشن کے فروغ کے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے بلکہ اس ٹیکس کو ایک کٹوتی کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے لہذا تجویز کیا جات اہے کہ اس ٹیکس کریڈیٹ کو ختم کردیا جائے ۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 2015-16 کے بجٹ میں متمول طبقے بشمول افرا، ایسوسی ایشنز اورکمپنیزکی آمدنی جو کہ 500 ملین روپے یا زائد تھی ، پر بالترتیب 4فیصد برائے بینکنگ کمپنیز اور تین فیصد تمام پر سپر ٹیکس نافذ تھا ۔ یہ ٹیکس 2016-17میں مزید ایک سال کےلئے بڑھا دیا گیا چونکہ وہ اسباب جن کی بنا پر یہ ٹیکس نافذ کیا گیا بدستور موجود ہیں لہذا تجویز ہے کہ اگلے سال بھی اس سپر ٹیکس کو جاری رکھا جائے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت کی یہ کوشش ہے کہ چھوٹے شیئر ہولڈرز کو اپنی سرمایہ کاری پر منافع ملے اور ان کے مفادات کا بھی تحفظ ہو۔ چنانچہ 2015-16کے بجٹ میں انکم ٹیکس 2001میں ترمیم کی گئی جس کے تحت اگر پبلک کمپنی نے منافع کے حصول کے بعد سرمایہ کاروں مین چھ ماہ تک منافع تقسیم نہ کیا یا منافع تقسیم کرنے کے بعد بھی سال کے آخر تک کمپنی کے زیزروز اس کے پیڈ اپ کیپیٹل کے 100فیصد سے زائد ہوں تو اس اضافی اماﺅنٹ پر 10فیصد کے حساب سے ٹیکس نافذ کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت غیر منقسم ریزورز پر ٹیکس میں چھوٹ حاصل ہے بشرطیکہ بعد ازٹیکس منافع کا40فیصد یا پیڈ اپ کیپیٹل کا 50فیصد جو بھی کم ہو ، Dividendکے طور پر تقیسم کیا جائے ۔ ایس ای سی پی کی نشاندہی کے مطابق پیڈ اپ کیپیٹل کے 50فیصد کی شرط نے اس قانون کی افادیت کو کم دیا ہے اور اس کے مطلوبہ مقاصد بھی حاصل نہیں ہوسکے ۔ لہذا ایس ای سی پی کی سفارشات پر پیڈ اپ کیپیٹل کی یہ شرط ختم کرنے کی تجویز ہے ۔ مزید برآں یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ اگر منافع تقسیم نہیں کیا جاتا تو اس کمپنی کے ریزروز کے بجائے اس کے سالانہ منافع پر10فیصد کی شرح سے ٹیکس نافذ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کمپنیوں کو ترغیب دینے کےلئے حکومت نے کمپنیوں پر ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار کم کیا ہے تاکہ کمپنیاں اپنا اصل منافع ظاہر کریں تاہم یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اس اقدام سے خاطرخواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے اور کمپنیاں اور دوسرے کاروبار ابھی تک صرف کم سے کم ٹیکس ہی جمع کروا رہے ہیں لہذا تجویز کیا جاتا ہے کہ کم سے کم ٹیکس کی اس شرح کو 1فیصد سے بڑھا کر1.25فیصد کردیا جائے ۔ اس اقدام سے قانون کی پاسداری کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کیونکہ ان کی شرح 31سے کم ہوکر 30فیصد ہو جائے گی اور ایسے ادارے جو اصل منافع ظاہر نہیں کرتے ان کی حوصلہ شکنی ہوگی ۔ وزیر خزانہ نے کہ اکہ غیر قانونی اور نان ڈیوٹی پیڈ سیگریٹ کی پیداوار اور فروخت کے خطرناک حد تک پھیلاﺅ نے ایک طرف فروخت سے حاصل شدہ رقم کر کم کردیا ہے تو دوسری جانب صحت کے مسائل کو بھی جنم دیا ہے کیونکہ ان ریگولیٹڈ پیداوار کا معیار میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا۔حکومت نے اس ضمن میں کئی اقدامات کئے ہیں تاکہ غیر قانونی پیداوار اور تقسیم کو روکا جا سکے ۔ تمباکو کی فروخت کو دستاویزی نظام کے دائرہ کار میں لانے کےلئے اور تمام متعلقہ افراد اور ان کی پیداوار سے متعلق معلومات کے حصول کےلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ کستان ٹوبیکو بورڈ یا اس کے ٹھیکدار Tobacco cessکی وصولی کے وقت 5فیصد کی شرح ودہولڈنگ ٹیکس وصول کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈویلپر ی سفارش پر فکسڈ ٹیکس فی یونٹ کے حساب سے جو فائنل ٹیکس پچھلے بجٹ میں عائد کیا گیا تھا اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے لہذا اسے واپس لینے کی تجویز ہے ۔ فی الوقت الیکٹرانک اشیاءکے ڈیلر ، ڈسٹریبیوٹرز اور ہول سیلرز ، اشیاءکی فروخت پر پرچون فروشوں سے 5فیصد کی شرح سے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول کرتے ہیں الیکٹرانک ریٹیلرز ایسوسی ایشن کے مطالبے پر یہ شرح 1فیصد تک بڑھانے کی تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے ٹیکس گزاروں کے مطالبے پر نان فائلرز کےلئے زیادہ شرح ود ہولڈنگ ٹیکس نافذ کرنے کی پالیسی متعارف کرائی تھی تاکہ ٹیکس دینے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور ٹیکس نہ دینے والوں ے خلاف تادیبی کاروائی کی جاسکے ۔ اس پالیسی کے حوصلہ افزاءنتائج برآمدا ہوئے اور گزشتہ تین برسوں میں گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد750,000سے بڑھ کر 1,225,000ہوگئی ہے ۔ اس پالیسی کو جاری رکھنے اور مزید بہتر بنانے کی غرض سے نان فائلرز ر ، ٹھیکوں ، فروخت اور خدمات ، غیر مقیم افرعاد کو ادائیگی ، کرایے سے آمدنی ، پرائز پانڈ اور لاٹری کے انعامات ، کمیشن، نیلامی ، سی این جی اسٹیشن کے گیس بل کی وصولی ، صنعت کاروں اور درآمدکنندگان کی ڈسٹری بیوٹرز ، ڈیلرز اور ہول سیلرز کو فروخت پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرحوں کو مزید بڑھانے کی تجویز ہے تاہم فائلر کےلئے موجودہ شرحیں بغیر کسی اضافے کے برقرار رہیں گی ۔ انہوں نے کہا کہ فی الوقت اگر نان پرافٹ ادارے اپنی آمدن کا 75فیصد سے زائد خیراتی اور سماجی سرگرمیوں میں خرچ نہیں کرتے تو ان کا این پی او کا مرتبہ ختم ہو جاتا ہے اور ان کی کل آمدن پر 30فیصد کی شرح سے ٹیکس نافذ ہے ۔ اس مشکل کو ختم کرنے کےلئے تجویز کیا جتا ہے کہ اگر یہ ادارے اپنی آمدن کا75فیصد سے زائد ایسی سرگرمیوں پر صرف نہ کرسکیں تو ایسی غیر استعمال شدہ رقم پر 10فیصد کی شرح سے ٹیکس نافذ کیا جائے اور ان کا این پی او کا مرتبہ بحال رہے ۔ مزید یہ بھی تجویز کیا جاتا ہے کہ ایسے اداروں کے انتظامی اخراجات پر 15فیصد کی حدمقرر کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ اب میں ان ریلیف اقدامات کا ذکر کروں گا جو کہ ہم نے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز قوانین کے حوالے سے موجودہ بجٹ میں تجویز کئے ہیں ۔ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کردہ موٹر آئل پر عائد 2فیصد اضافی ٹیکس کے خاتمہ کی تجویز ہے ۔ کم توانائی پر چلنے والی موٹر گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے کےلئے درآمد کے وقت ان پر عائد سیلز ٹیکس کم شرح کو ن گاڑیوں کی مقامی سطح پر فراہمی پر بھی مہیا کرنے کی تجویز ہے ۔ ٹیکس گزاروں کو درپیش مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے تجویز ہے کہ اگر ٹیکس گزار سیلز ٹیکس کی ریکوری کے حوالے سے اصل رقم کا 25فیصد پیشگی جمع کرادیں تو انہیں کمشنر ایپل کے فیصلے تک مطلوبہ رقم کی ریکوری پر خود بخود سٹے مل جائے ۔ یہ سہولت فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے حوالے سے بھی دی جائے گی ۔ مخصوص premixesپر عائد ٹیکس میں چھوٹ دینے کی تجویز ہے تاکہ Stuntingکے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکا جا سکے اس حوالے سے چھٹے شیڈوکل میں پہلے سے موجود عمومی چھوٹ کا دائرہ کا ر مزید بڑھانے کی تجویز ہے ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ کاروبار کو مزید آسان بنانے کےلئے تجویز ہے کہ رجسٹرڈ افراد کی جانب سے دیگر رجسٹرڈ افراد کو اشیاءکی فراہمی پر عائد سیلز ٹیکس ودہولڈنگ ختم کر دی جائے تاہم سرکاری اداروں کو فراہم کردہ اشیاءپر عائد سیلز ٹیکس ودہولڈنگ برقرار رہے گی ۔ پولٹری کے کاروبار میں استعمال ہونے والی سات مختلف قسم کی مشینریوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد سے کم کر کے 7فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ اس اقدام سے اس سیکٹر میں سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ ہوگا ۔ صوبوں کی جانب سے بعض خدمات پر input adjustmentکے بغیر سیلز ٹیکس کی کم شرحوں کا نفاذ کیا گیا ہے ۔ توازن اور سہولت کی غرض سے سیلز ٹیکس کی ان کم شرحوں کو اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کی حدود میں بھی لاگو کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیمی اداروں میں ملٹی میڈیا پراجیکٹس کے استعمال کر فروغ دینے کےلئے تجویز کیا جاتا ہے کہ ان پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17فیصد سے کم کر کے 10فیصد کردیا جائے ۔ ملٹی میڈیا پراجیکٹس پر کسٹم ڈیوٹی کی شرح پہلے ہی تین فیصد ہے ۔ سیمنٹ سیکٹر میں قابل ذکر ترقی ہورہی ہے اس لئے ضروری ہے کہ یہ سیکٹر حکومت مالی وسائل میں اضافے کےلئے اپنا کردار ادا کرے ۔ا س سلسلے میں سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں ایک روپیہ فی کلوگرام سے 1.25روپے فی کلو گرام کے اضافے کی تجویز ہے ۔ توقع ہے کہ اس اقدام سے سیمنٹ کی قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور انڈسٹری اس معمولی اضافے کو باآسانی برداشت کر پائے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کے بجٹ میں پانچ بڑے برآمدی سیکٹرز کو زیروریٹ کیا گیا تھا ان سیکٹرز کی ریٹیل سیل پر 5فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا ۔ اب ان سیکٹرز کے ریٹیلرز سے مشاورت کے بعد اس شرح کو 6فیصد تک بڑھانے کی تجویز ہے ۔ اس وقت کپڑے کی کمرشل درآمد پر سیلز ٹیکس صفر فیصد ہے جس کو بڑھا کر 6فیصد کرنے کی تجویز ہے تاکہ کپڑے کے مقامی صنعتکاروں کو صحت مند مسابقت کی فضاءمیسر ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اس سیکٹر سے ڈیوٹی کی وصولی بڑھانے اور سیگریٹ نوشی کی حوصلہ شکنی کےلئے سیگریٹ کے دو موجودہ درجات پر ڈیوٹی کی شرح بڑھانے کی تجویز ہے ۔ مزید برآں اس سیکٹر ی Documentationاور اسمگلنگ اور غیر معیاری سیگرینوں کی روک تھام کےلئے ایک نیا درجہ متعارف کرانے کی تجویز ہے ۔ سٹیل سیکٹر پر عائد سیلز ٹیکس کی شرح کو retionalizeکر نے کےلئے بجلی پر 9روپے فی یونٹ کی موجودہ شرح کو بڑھا کر 10.5روپے کیا جا رہا ہے اور اسی لحاظ سے شپ بریکنگ اور متعلقہ صنعتوں یہ اضافہ متعارف کیا جائے گا ۔ اس شعبے میں کاروبار کو آسان بنانے کے لئے سٹیل کی صنعت کے مسائل کو مشاورت سے حل کیا جائے گا کہ عرف عام میں ایچ ایس سسٹم کے نام سے جانا جاتا ہے ، ایک اہم کنونشن ہے جس کی بدولت عالمی سرحدوں کے مابین اشیاءکی خریدوفروخت بغیر کسی مشکل کے ہو رہی ہے ۔ ہر پانچ سال بعد ڈبلیو سی او اس کنونشن کا جائزہ لیتا ہے اور تجدید کرتا ہے کہ ۔ ڈبلیو سی او نے ایچ ایس ورژن کا یکم جنوری 2017سے نفاذ کردیا ہے ۔ پاکستان ایچ ایس کنونش کا حصہ ہونے کے ناطے اس نئے ورژن کو نئے مالی سال یعنی کم جولائی 2017سے اختیار کرنے کا پابند ہے ۔ ایچ ایس 2017کی ترامیم سے دنیا بھر میں خریدوفروخت ہونے والی 15فیصد کے لگ بھگ اشیاءپر اثر پڑے گا ایچ ایس 2017میں ہونے والی زیادہ تر تبدیلیاں ماحولیاتی اور سماجی امور سے متعلق ہیں ۔ اس کے علاوہ نئے ورژن میں اشییاءکی درجہ بندی بھی کی گئی ہے تاکہ ان کی تیاری کے مراحل اور ٹیکنالوجی میں ہونے ولای ترقی کا احاطہ کیا جاسکے ۔ نئے ورژن کے نفاذ سے نہ صرف ایک قانونی تقاضہ پورا ہوگا بلکہ اس عمل سے امپورٹڈ اور دیگر تمام افراد کو مدد ملے گی جن کا کاروبار اور شراکتیں عالمی سطح پر پھیلی ہوئی ہیں ۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پولٹری فارم سیکٹر نہ صرف ملک کے درمیانی آمدنی والے طبقے کو سستا چکن فراہم کررہا ہے بلکہ یہ شعبہ ملک صنعت میں اہم کردارادا کررہا ہے ۔ اس شعبے کو مزید ریلیف دینے کےلیئے تجویز ہے کہ چین کے grand parentاورparent stockکی امپورٹ پر عائد 5فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کردیا جائے اور کسٹمز ڈیوٹی کو11فیصد سے کم کر کے 3فیصد کردیا جائے ۔ اس کے علاوہ تجویز ہے کہ hatching eggsپر عائد کسٹم ڈیوٹی کو 11فیصد سے کم کر تین فیصد کردیا جائے ۔ اس عمل سے اس کاروبار کے inputsکی لاگت کو کم کرنے اور اس شعبے کو مزید ترقی اور فروغ دینے میں مدد ملے گی ۔ حکومت ملک میں مشینی فارمنگ کے فروغ کےلئے کاوشیں کر رہی ہے تاکہ پیداوار میں ااضافہ ہو سکے اور ملکی معیشت میں اس شعبے کا کردار مزید مستحکم بنایا جا سکے ۔ نئی کمبائنڈ harvestersپر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ ہے تاہم پرانی اور استعمال شدہ harvestersپر تین فیصد ڈیوٹی لاگو ہے ۔ زرعی شعبے کو مزید ریلیف دینے اور وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کی سفارش پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ کا دائرہ نئی اور پانچ سال تک پرانی اور استعمال شدہ harvestersتک بڑھانے کی تجویز ہے تاکہ ان کی ملک میں درآمد کم سے کم لاگت پر ممکن ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں شتر مرغ فارمنگ شروع ہو چکی ہے جس کی بدولت نہ صرف خوراک میں پروٹین کے جزو کو بڑھانے میں مدد ملے گی بلکہ ملک سے گوشت کی برآمد میں بھی اضافہ ہوگا ۔ ملک یں شتر مرغ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کےلئے شتر مرغوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی کی چھوٹ کی تجویز ہے ۔ ہیلتھ سیکٹر ہمیشہ سے حکومت کی ترجیح رہا ہے مریضوں کو معیاری اور سستا علاج مہیا کرنے کےلئے کئی اقدامات پہلے سے ہی اٹھائے جا چکے ہیں پچھلے سالوں کی طرح اس سال بھی اس شعبے کےلئے مندرجہ ذیل اقدامات کی تجویز ہے ۔ (a)فارما، بائیو ٹیکنالوجی اور لائف سائنسز میں استعمال کو فروغ دینے کے لئے pre-fabricated clean roomsکی امپورٹ پر کسٹم ڈیوٹی 20فیصد سے کم کر کے تین فیصد کرنے کی تجویز ہے ۔ (b) fabric-(non woven)فارماسیوٹیکل سیکٹر میں surgical grown , bandageاور زخموں کی مرہم پٹی کےلئے استعمال ہوتا ہے ۔ اس کپڑے پر16فیصد ڈیوٹی عائد ہے جسے کم کر کے پانچ فیصد کیا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آٹو پارٹس پنکھوں اور برتن سازی کی صنعت سمیت جن صنعتوں میں خام مال استعمال ہوتا ہے انہیں ریلیف دینے کے لئے ڈیوٹی کی شرح 10سے کم کر کے 5فیصد کی جا رہی ہے۔ رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کو محفوظ بنانے کےلئے سی ڈی اے ایک علیحدہ سیکٹر کا اعلان کرے گا۔ سیلز ٹیکس کے تمام زیر التوا ریفنڈز جو منظور ہو چکے ہیں دومراحل میں ادا کئے جائیں گے ۔ سرکاری ملازمین اور پنشنرز کےلئے ریلیف اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ ایف بی آر کے مطابق وفاقی بجٹ میں 565 اشیاءمہنگی کر دی گئیں۔ ان اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھا دی گئی۔ وفاقی بجٹ میں 120 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کئے گئے۔ ٹیکسوں کی مد میں 32 ارب روپے کا ریلیف بھی دیا گیا ہے۔ فرنیچر،میک اپ کا سامان، الیکٹرانکس، درآمدی کھانے کی اشیاءمہنگی کی گئی ہیں۔ نان فائلر پر 8 ارب 25 کروڑ روپے کے اضافی ٹیکس عائد کئے گئے ہیں۔نان فائلر پر ریٹیل کی سطح پر ایک فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ نان فائلر کیلئے گاڑیوں کیلئے عائد ٹیکس میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ تمام درآمدی پیک فوڈ، درآمدی مشروبات پر بھی ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔ اس سال بھی سپر ٹیکس 4 فیصد کے حساب سے تمام اشیا پر لاگورہے گا۔ فنانس بل کی دستاویز کے مطابق 565امپورٹڈ آئٹمز پر ٹیکس میں 5 سے 15 فیصد اضافہ دیا جائے گا۔ امپورٹڈ جوسز پر ڈیوٹی 15 سے بڑھا کر 20 فیصد امپورٹڈ منرل واٹر، وٹامن واٹر پر ڈیوٹی میں 5 فیصد امپورٹڈ انرجی ڈرنکس پر ڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا۔ امپورٹڈ پائن ایپل کا 250 گرام کا ڈبہ 25 روپے مہنگا کیا گیا ہے۔ مشروم کا 200 گرام کا ڈبہ 10 روپے، ریڈ چیری کا 200 گرام کا ڈبہ 15روپے، چاکلیٹ سپریڈ کا 300 گرام کا ڈبہ 27 روپے مہنگا ہو گیا۔ بلیو اور بلیک بیری، رس بیری پرڈیوٹی میں 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سویٹ کارن کا200 گرام کا ڈبہ 17 روپے، کتے اور بلی کی امپورٹڈ خوراک کا 200 گرام کا ڈبہ 25 روپے مہنگا کر دیا گیا۔ پاکستان میں انفراسٹرکچر بنک قائم کیا جا رہا ہے۔ انفراسٹرکچر بینک سے پراجیکٹ فنانسنگ ہو سکے گی۔ جنوبی کوریا کے تعاون سے اسلام آباد میں آئی ٹی کمپنی قائم کی جائے گی۔ کم از کم اُجرت 14 نہیں 15 ہزار ہو گی۔ گریڈ 5 تک کے ملازمین کو 50 فیصد ہاﺅس رینٹ الاﺅنس کی کٹوتی ختم کر دی گئی ہے۔ نان فائلرز پر کرائے سے آمدنی، پرائز بانڈ پرود ہولڈنگ ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔ وزیراعظم یوتھ لون سکیم کے تحت لی گئی گاڑیوں پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی چھوٹ کی تجویز ہے۔ اس تجویز کا مقصد بے روزگار نوجوانوں کو فائدہ دینا ہے۔ سٹاک ایکسچینج میں شامل کمپنیوں کو ٹیکس کریڈٹ کی چھوٹ میں کمی کی تجویز ہے۔ پہلے دو سال 20 فیصد اور اگلے 3 سال 10 فیصد کی چھوٹی دی جائے گی۔ گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کیلئے ان شرحوں میں کمی نہیں ہو گی۔ تقسیم کنندگان پر ٹیکسوں کی کم ترین شرح 0.2 فیصد مقرر کی ہے۔ تقسیم کنندگان پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 3.5 فیصد سے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری ہے اس لئے سپر ٹیکس جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردلی الاﺅنس 12 ہزار سے بڑھا کر 14 ہزار کیا جا رہا ہے۔ ڈیلی الاﺅنس کی شرح میں 60 فیصد اضافہ تجویز ہے۔ خدمات پر ایف ای ڈی سے 56 ارب 21 کروڑ روپے حاصل کرنے کا ہدف ہے۔ شتر مرغ فارمنگ کی حوصلہ افزائی کیلئے کسٹم ڈیوٹی اشتثناء دینے کی تجویز ہے۔ ایلومینیم پر ڈیوٹی 10 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ لکڑی کی شیٹس پر کسٹم ڈیوٹی 16 سے کم کرکے 11 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ سرکاری ملازمتوں میں معذوروں کا کوٹہ 2 فیصد کی شرط لمیٹڈ کمپنیوں پر بھی لاگو ہو گی۔ پاکستان بیت المال کا بجٹ 4 ارب سے بڑھا کر 6 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے۔ فکسڈ ٹیکس پچھلے بجٹ میں عائد کیا۔ اس سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہ ہو سکے اسے واپس لینے کی تجویز ہے۔ گزشتہ سال کے نظرثانی شدہ خسارے کا تخمینہ 4.2 فیصد ہے۔ دوا ساز صنعتوں کے اخراجات کی حد فروخت 5 سے 10 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ سرجیکل گا¶ن بینڈ باجے والے کپڑے پر کسٹم ڈیوٹی شرح 5 فیصدکمی کرنے کی تجویز ہے۔ پنکھے‘ برتن سازی کی صنعت پر ریگولیٹری ڈیوٹی 10 سے کم کرکے 5 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ گزشتہ 3 برسوں میں 300 ارب روپے کی سبسڈی واپس لی گئی۔ آئندہ مالی سال کیلئے اقدامات کا کل تخمینہ 4753 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ کل آمدنی میں سے صوبائی حکومتوں کو 2384 ارب روپے ملیں گے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال محصولات کا تخمینہ 5310 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ رواں سال ٹیکس وصولیوں کا ہدف 3521 ارب روپے ہے رواں سال شرح نمو 5 فیصد سے اوپر ہے ایف بی آر کی ٹیکس وصولی 4013 ارب روپے ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس 31 سے کم کرکے 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔ قرض و سود کی ادائیگی کیلئے 1369 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ چار سال میں مشکل فیصلے کئے چار سال میں فی کس آمدنی میں 22 فیصد اضافہ ہوا فی کس آمدنی 1629 ڈالر تک پہنچ گئی۔ چار سال کے دوران ٹیکس وصولیوں میں 81 فیصد اضافہ ہوا شرح سود کم ترین سطح پر آگئی سروسز سیکٹر میں 5.98 فیصد ترقی ہوئی۔ زرعی ترقی کی شرح 3.46 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصدہے چار سال میں مہنگائی کی شرح 12 سے 4 فیصد تک آگئی اس عرصہ میں مالیاتی خسارہ 8.4 سے 4.2 فیصد تک آگیا چار سال کے دوران ٹیکس محصولات میں 82 فیصد اضافہ ہوا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے بچوں کی فرمائش پر چاکلیٹ پر ٹیکس ختم کردیا۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ میں نے ٹی وی چینل پر بچوں کی فرمائشیں دیکھی ہیں اس لئے چاکلیٹس پر ٹیکس ختم کرنے کا اعلان کرتا ہوں۔ بچے تو جان بھی مانگیں تو وہ بھی حاضر ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ خواتین کو لمیٹڈ کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں نمائندگی دی جائے گی۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اگلے مالی سال کے بجٹ میں وسائل کے قابل تقسیم پول سے فاٹا اور گلگت بلتستان کو 3 فیصد حصہ دینے اور بلڈرز اور ڈیویلیرز کی سفارش پر فکسڈ ٹیکس جو گزشتہ برس لگایا تھا اسے واپس لینے کا اعلان کردیا ہے۔ قبل ازیں وفاقی کابینہ نے مالی سال 2017-18ء کیلئے بجٹ دستاویز کی منظوری دیدی۔