سپریم کورٹ پاکستان نے 18ویں ترمیم کے تحت اسپتال و دیگر ادارے صوبوں کے حوالے کرنے کو غیر قانونی قرار دے دیا
— January 18, 2019اسلام آباد ( اے آئی اے ) سپریم کورٹ پاکستان نے 18ویں ترمیم کے تحت ٹرسٹ , اسپتالوں اور میوزیم کو صوبوں کے حوالے کرنے کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں5رکنی لارجر بینچ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ چار ایک کی اکثریت سے شیخ زید اسپتال , جناح اسپتال , این آئی سی وی ڈی اور نیشنل چائلڈ ہیلتھ اور نیشنل میوزیم صوبائی حکومتوں سے لے کر واپس وفاقی حکومت کے حوالے کیا جائے اور قرار دیا گیا کہ کراچی کے 3 اسپتال اور میوزیم بھی غیرقانونی طور پر صوبائی حکومتوں کے حوالے کئے گئے ہیں اور اسپتالوں کا انتظامی اختیار90 روز کے اندر وفاقی حکومت کو واپس دینے کا حکم دیا ، عدالت نے قرار دیا کہ اگر 90 روز میں منتقلی نہ ہوسکے تو صوبہ وقت میں توسیع کی درخواست دے سکتا ہے فیصلے میں اسپتالوں کی صوبوں سے وفاق میں منتقلی کے طریقہ کار کے تعین کیلئے کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کی گئی اور کہا گیا کہ وفاقی حکومت منصوبوں کو چلانے کیلئے فنڈز مختص کرے اور ایک سال کے اندر اسپتالوں کے تمام منصوبے اپنی تحویل میں لے اور ان کی ادائیگیوں کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہوگی جسٹس مقبول باقر نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا اور قرار دیا کہ 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صحت اب صوبائی معاملہ ہے جبکہ اکثریتی فیصلے میں کہا گیا کہ اسپتال صوبوں کے حوالے کرنے کے معاملے میں 18ویں آئینی ترمیم کی غلط تشریح کی گئی ہے صحت کا تعلق زندگی کے بنیادی حق سے ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے اس لئے وفاقی حکومت کو اختیار ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں کی زندگی کے تحفظ کے لئے صوبوں میں اسپتال قائم کرے اور اسے چلائے ، فیصلے میں کہا گیا کہ صوبوں میں وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسپتال قائم کرنے اور چلانے سے صوبائی خودمختاری متاثر نہیں ہوتی وفاقی حکومت کو متعلقہ اسپتالوں کے گزشتہ ایک سال کے اخراجات صوبوں کو ادا کر نے کی ہدایت کی گئی اور قرار دیا گیا کہ کوئی قانون ان اسپتالوں کی وفاق حکومت کو منتقلی نہیں روک سکتا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے اختیارات میں توازن ہونا چاہیئے