وفاقی فنڈز کی کمی سے صوبے کی مالی حالت غیر مستحکم ہے , سید مراد علی شاه
— May 8, 2019
کراچی ( اے آئی اے ) وفاقی فنڈز کی کمی سے صوبے کی مالی حالت غیر مستحکم ہے ان خیالات کا اظہار وزیر اعلی سنده سید مراد علی شاه نے وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقیات کے مشترکہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ وفاقی فنڈز کی کمی سے صوبے کی مالی پوزیشن غیر مستحکم ہے جس نے صوبائی حکومت کے ترقیاتی پورٹ فولیو کو متاثر کیا ہے جاری اسکیموں کی تکمیل آئندہ ہونے والے مالی سال پرمحیط ہے ہماری توجہ جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل پر مرکوز ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ان کی توجہ پانی کی فراہمی , صحت کی سہولیات اور اسکولوں کے منصوبوں کی تکمیل پر ہے وزیراعلیٰ سندھ نے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ کو ہدایت کی کہ سڑکوں کے جال , دریائے سندھ پر پلوں اور اسپتالوں کی ترقی سے لوگوں پر ہونے والے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ایک سروے کیا جائے ہم جانتے ہیں کہ سندھ کے لوگوں کے لیے سہولیات پیدا کرنے کے لیے کیا کیا کرنا ہے موجودہ ختم ہونے والے مالی سال کے دوران صوبائی اے ڈی پی 230 ارب روپے ہے جوکہ اپریل 2019 کے اختتام تک اخراجات کی مد میں 72.88 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے سنده میں سڑکوں کا جال بچھانے کے کام میں 56.6 ارب روپے مختص کیئے گئے تھے جس میں سے 27.8 ارب روپے استعمال ہوسکے ۔ اسی طرح محکمہ آبپاشی کے منصوبوں کے لیئے 35.8 ارب روپے مختص کیئے گئے جس میں سے 17.8 ارب استعمال ہوپائے پانی اور سینی ٹیشن کیلئے 42.5 ارب مختص تھے لیکن صرف 6.5 بلین روپے استعمال ہوسکے ۔ محکمہ صحت نے 15.8 ارب روپے کے بجٹ میں سے 4.3 ارب روپے استعمال کیئے محکمہ تعلیم نے 15.8 ارب روپے مختص بجٹ میں سے 5.9 ارب روپے استعمال کیئے وزیر برائے ورکس اینڈ سروسز سید ناصر حسین شاہ نے اجلاس کو بتایا کہ حیدرآباد اور سکھر اضلاع میں 70 سے زائد منصوبے مکمل ہوچکے ہیں اجلاس میں محکمہ آبپاشی و محکمہ ورکس اینڈ سروسز کے وزیر سید ناصر حسین شاہ , وزیراعلیٰ کے معاون خاص اشفاق میمن , چیئرپرسن پی اینڈ ڈی ناہید شاہ , وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو , سیکریٹری آبپاشی جمال شاہ , سیکریٹری خزانہ نجم شاہ , سیکریٹری ورکس , محکمہ منصوبہ بندی و ترقی کے چیف اکنامسٹ فتح تنیو اور دیگر افسران بهی موجود تهے