ایف بی آر نے بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی کا عمل شروع کردیا
— July 4, 2019
-
اسلام آباد ( اے آئی اے ) ایف بی آر نے بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی مہلت ختم ہوتے ہی بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی کا عمل شروع کردیا تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) نے بے نامی اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم کی مہلت ختم ہوتے ہی بے نامی جائیدادوں کی ضبطگی کا عمل شروع کردیا ہے ایف بی آر حکام کے مطابق ایمنسٹی اسکیم سے اب تک 70 ارب روپے کی ٹیکس آمدن ہوئی جبکہ گذشتہ اسکیم سے 124 ارب روپے ریونیو حاصل ہوا تھا اور گذشتہ سال اسکیم سے 84 ہزار افراد نے استفادہ کیا تھا اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کا بدھ کو آخری دن تھا اور بینکنگ اوقات کے دوران اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا تھا چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) شبر زیدی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اثاثہ جات اسکیم میں اب تک 95000 افراد نے خود کو رجسٹرڈ کرایا جبکه وزیر مملکت ریونیو حماد اظہر نے بتایا تھا کہ 80 ہزار افراد بے نامی اثاثہ جات ظاہر کرنے کے لیئے حکومت سے رابطہ کرچکے ہیں ایف بی آر کے مطابق بے نامی قوانین سے متعلق موثر نظام بن چکا ہے اور یکم جولائی 2019 سے فعال ہے ایسٹس ڈکلیئریشن اسکیم میں اثاثے اور اخراجات بتانے والوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہوگی اور ظاہر کردہ اثاثوں کو صیغہ راز میں رکھا جائے گا چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) شبر زیدی نے کہا ہے کہ ایمنسٹی اسکیم سے مستفید لوگوں کی تعداد ایک لاکھ 35ہزار سے زیادہ ہے انہوں نے کہا کہ اسکیم کے تحت ایک لاکھ 10ہزار افراد فائدہ اٹھا چکے ہیں اور مزید 25 ہزار افراد پائپ لائن میں ہیں وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ ایسٹس ڈیکلیئریشن اسکیم 2019 میں تین جولائی تک توسیع کی گئی تھی جس کی مدت دفتری اوقات تک تھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کی جانب سے ڈیڈلائن ختم ہونے کے بعد بے نامی جائیدادوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے ایف بی آر نے دفتری اوقات کار ختم ہوتے ہی اثاثے ظاہر کرنے کا ویب پورٹل بھی بند کردیا ہے