پاکستانی سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے ، طالب علموں کی درخواست

پاکستانی سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے ، طالب علموں کی درخواست

کراچی ( اے آئی اے ) پاکستانی سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے تفصیلات کے مطابق طالب علموں نے وزیراعظم پاکستان سے درخواست کی ہے کہ پاکستانی سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کو وفاق کے زیر انتظام کیا جائے طالب علموں کے مطابق آج سے پچاس سال قبل پاکستان میں قائم کیئے گئے بین الاقوامی فنی تعلیمی ادارے حکومت پاکستان کی عدم دلچسپی اور ان بین الاقوامی فنی تعلیمی اداروں کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کردینے کی وجه سے یه ادارے خسته حالی کا شکار ہیں یه ادارے بین الاقوامی اس لیئے کہلاتے ہیں که ان کو دو ممالک حکومت پاکستان اور سویڈن حکومت نے باہمی اشتراک سے قائم کیا تها پاکستان میں موجود ان فنی تعلیمی اداروں کے نام میں دونوں ممالک کے نام اور ان کے مونو گرام میں دونوں ممالک کے جهنڈے موجود ہیں رائل سوئیڈش گورنمنٹ اور حکومت پاکستان نے پاکستان میں تین بڑے فنی تعلیمی ادارے قائم کیئے تهے پہلا فنی تعلیمی اداره 1957 میں 23 ایکڑ زمین پر گورنمنٹ پاکستان سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی بنایا گیا تها , انسٹی ٹیوٹ کے اندر اسٹاف ٹاؤن , طلباء کے لیئے ہاسٹل , مختلف شعبه جات کے علاوه تین پروڈکشن یونٹ بهی ہیں جن میں ایک گارمنٹ فیکٹری , ایک ووڈ ورک یونٹ اور ایک ویلڈنگ یونٹ ہے دوسرا بڑا فنی تعلیمی اداره 1960 میں گورنمنٹ سوئیڈش پاکستانی انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی گجرات بنایا گیا تها جو اب گورنمنٹ سوئیڈش پاکستان کالج آف ٹیکنالوجی گجرات کے نام سے مشہور ہے تیسرا بڑا فنی تعلیمی اداره 1963 میں پاکستان سوئیڈن پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ 30 ایکڑ زمین پر بنگله دیش میں بنایا گیا تها جو اب بنگله دیش سوئیڈن پولی ٹیکنک انسٹی ٹیوٹ کے نام سے مشہور ہے اور ان فنی تعلیمی اداروں میں پڑهانے والے استاد صاحبان سوئیڈن سے آتے تهے لیکن 1971 کی پاک بهارت جنگ کے بعد تمام اساتذه واپس سوئیڈن چلے گئے طالب علموں کے مطابق جس سرکاری ادارے کے ساته پاکستان لکها جاتا ہے وه وفاقی ادراه ہوتا ہے یه بڑے فنی تعلیمی ادارے بهی وفاقی حکومت کے زیر انتظام تهے لیکن حکومت پاکستان نے ان بین الاقوامی فنی تعلیمی اداروں کو صوبوں کے حوالے کردیا طالب علموں نے شکوہ کرتے ہوئے کہا صوبائی حکومت نے بهی ان اداروں کو کوئی اہمیت نه دی اور ان بین الاقوامی اداروں سے کم عمر اور چهوٹے اداروں کو اپ گریڈ کر دیا گیا کئی نئی جامعات قائم کردیں گئیں ہیں حکومت سنده نے تو سابق دور حکومت میں سابقه وفاقی تعلیمی ادارے گورنمنٹ پاکستان سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کو سٹی ڈسٹرک گورنمنٹ کے حوالے کردیا تها طالب علموں نے توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ حکومت پاکستان اور ماہرین تعلیم کو احساس ہونا چاہیئے که فنی تعلیمی ادارے کسی بهی ملک کے لیئے ریڑهه کی هڈی گی حثیت رکهتے ہیں یه فنی تعلیمی ادارے ہمارے اثاثه جات ہیں اور تعلیمی ادارے چند سالوں کے لیئے نہیں صدیوں کے لیئے بنائے جاتے ہیں ان اداروں سے ہماری آنے والی نسلوں نے مستفید ہونا ہے دنیا بهر میں روز بروز فنی تعلیم کی ضرورت بڑهتی جارہی ہے اور اداروں کو جدید بنایا جارہا ہے لیکن افسوس ہمارے ملک میں اتنی محنت اور جدوجہد سے بنائے گئے فنی تعلیمی ادارے اپنی بقاء کی جنگ لڑرہے ہیں ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے وزیراعظم پاکستان سے اپیل ہے کہ حکومت پاکستان فوری ان بین الاقوامی فنی تعلیمی اداروں کی جانب توجه دے کر پاکستان گورنمنٹ پاکستان سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی اور گورنمنٹ سوئیڈش پاکستان کالج آف ٹیکنالوجی گجرات کو وفاقی وزارت تعلیم کے ماتحت کرکے ان کا بین الاقوامی وقار بحال کرے باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے که لینڈ مافیا نے گورنمنٹ پاکستان سوئیڈش انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کراچی کے طلباء اور عملے کے لیئے 1957 میں بنائے گئے ” لانڈهی ہاسٹلز ” پر قبضه کرکے فروخت بهی کردیا ہے

About author