عطیہ کی قلت ، برطانیہ میں جگر کی منتقلی کی ویٹنگ لسٹ میں تقریباً7سو افراد شامل

عطیہ کی قلت ، برطانیہ میں جگر کی منتقلی کی ویٹنگ لسٹ میں تقریباً7سو افراد شامل


لندن( اے آئی اے ) عطیہ کی قلت کے باعث برطانیہ میں جگر کی منتقلی کی ویٹنگ لسٹ میں تقریباً7سو افراد شامل تفصیلات کے مطابق اعدادو شمار سے ثابت ہوا ہے کہ این ایچ ایس میں جگر کی زیادہ تر منتقلی کیلئے مختص نظام سرجری کے لیے نوجوان مریضوں کے لیے زیادہ وقت انتظار کا سبب بن رہا ہے، جگر کا عطیہ دینے والوں کی قلت کے سبب کمپیوٹر الیگرتھم فیصلہ کرتا ہے کہ ویٹنگ لسٹ میں کس کو ترجیح دی جائے۔ اعدادو شمار کے مطابق نوجوان60سال سے زائد عمر کے لوگوں کے مقابلے میں اوسطاً156زائد دن انتظار کررہے ہیں۔ تاہم این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ نے کہا ہے کہ مشکل فیصلے کرنے پڑتے ہیں اور نظام جانیں بچا رہا ہے۔ برطانیہ میں جگر کی منتقلی کی ویٹنگ لسٹ میں تقریباً7سو افراد شامل ہیں۔ بہرحال یہ تعداد نئے مریضوں کی آمد اور کچھ کی سرجری ہونے کے باعث گھٹتی بڑھتی ہے۔ دیگر افراد وقت پر منتقلی حاصل نہیں کر پاتے۔ گزشتہ سال جگر کی منتقلی سے پہلے69افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ 2018ء میں ایک نیا کمپیوٹر الیگرتھم ویٹنگ لسٹ میں اموات میں کمی کے لیے شروع کیا گیا تھا۔ اس میں ان مریضوں کو ترجیح دی گئی تھی جن کے مرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوں اور یہ معمر افراد کی طرف مائل رہا تھا اور نوجوان مریضوں کو منتقلی کے لیے زیادہ طویل انتظار کرنا پڑا تھا لیور ٹرانسپلانٹ سرجن پروفیسر نائجل ہیٹن نے کہا ہے کہ انہیں نوجوان مریضوں کی سپورٹ میں مشکل کا سامنا ہے کیونکہ ان کو یقین ہے کہ وہ برسوں انتظار کرسکتے ہیں۔ این ایچ ایس بلڈ اینڈ ٹرانسپلانٹ کی چیف نرس نے تسلیم کیا ہے کہ ویٹنگ لسٹ پر موجود نوجوان مریضوں کے لیے یہ کڑا وقت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سخت فیصلے کیے جائیں کیونکہ عطیہ دہندگان کی کافی تعداد میسر نہیں۔ برٹش ٹرانسپلانٹیشن سوسائٹی کی صدر کرشنا مینن نے کہا ہے کہ الیگرتھم پر پر منتقل نظر رکھی جارہی ہے اور اسے تبدیل کیا جاسکتا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص گروپ کے لیے ایڈجسٹمنٹ دوسرے گروپ کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ عطیہ دینے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جائے

About author