ذیابیطس ادویات کی قلت سے جعلی ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا  ، ڈبلیو ایچ او

ذیابیطس ادویات کی قلت سے جعلی ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا ، ڈبلیو ایچ او


جنیوا ( اے آئی اے ) ذیابیطس ادویات کی قلت سے جعلی ادویات کے استعمال میں اضافہ ہوا ہے تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ برس ذیا بیطس کی مشہور ادویات (جو وزن میں کمی کے لیے بھی استعمال کی جاتی ہیں) کی فراہمی میں عالمی سطح پر ہونے والی قلت کے سبب مشتبہ طور پر جعلی ادویات کے استعمال میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ادارے کا کہنا تھا کہ جی ایل پی-1 ایگنسٹس کلاس سے تعلق رکھنے والی ادویات کے جعلی ورژن اکثر بے قاعدہ ذرائع (بشمول سوشل میڈیا پلیٹ فارم) سے فروخت اور تقسیم کیے جا رہے ہیں، جو کہ صحت کے حوالے سے انتہائی سنگین نتائج رکھتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق جعلی ادویات خراب کارکردگی یا زہریلے ردِ عمل کے لیے جانی جاتی ہیں۔ عین ممکن ہے ادویات ممکنہ طور پر غیر صحت بخش ماحول میں غیر سندیافتہ افراد کی جانب سے بنائی گئی ہوں جس کی وجہ سے یہ بیکٹیریا سے آلودہ ہوں۔اوزیمپک اور اس جیسی متعدد ادویات (جن کو وزن کم کرنے کی ادویات کے طور پر منظوری ملی تھی) کی بے تحاشہ طلب عالمی مارکیٹ میں جعلی ادویات کی کھپت کا سبب بنی ہے

About author