حکومت سندھ نیا ٹیکس لگائے گی نہ موجودہ شرح میں اضافہ ہوگا , سید مراد علی شاہ

حکومت سندھ نیا ٹیکس لگائے گی نہ موجودہ شرح میں اضافہ ہوگا , سید مراد علی شاہ

 

کراچی ( اے آئی اے ) کاروباری برادری کو مشکل حالات میں پنپنے کی گنجائش دینے کی خاطر نئے مالی سال میں کوئی نیا ٹیکس لگایا جائے گا نہ موجودہ ٹیکسز کے اہداف بڑھائے جائیں گے ان خیالات کا اظہار گذشته روز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صوبائی حکومت کی مالی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیئے محکمہ خزانہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا وزیر اعلٰی سنده  نے ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتاری سے تکمیل کی خاطر غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے اور صرف ضروری سروسز پر بجٹ جاری کرنے کی ہدایت کی محکمہ خزانہ کا کہنا ہے کہ وفاق کی طرف سے فنڈز کی منتقلی میں 123 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے ۔ غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ ترقیاتی منصوبے ترجیحی بنیاد پر جلد مکمل کیئے جا سکیں اجلاس میں سندھ ریونیو بورڈ کے چیئرمین خالد محمود نے کہا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے پری پیڈ اور پوسٹ پیڈ موبائل سروس پر سیلز ٹیکس کے خاتمے سے 10 ارب روپے کا نقصان پہنچا ہے  ابتر معاشی حالات کے باعث کارپوریٹ اور سرکاری تشہیر میں کمی سے بھی صوبائی حکومت کو 3 ارب روپے کا نقصان پہنچا وزیراعلیٰ نے ایس آر بی , محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن , محکمہ توانائی اور محکمہ مائنز اینڈ منرلز کی وصولیوں کا جائزہ لیا تمام محکموں نے اہداف حاصل کرلیئے ہیں سید مراد علی شاہ نے بتایا کہ غیر معمولی معاشی مشکلات کے باوجود کاروباری اداروں کے مفادات کو ذہن نشین رکھتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا اس کے باوجود آمدن کے اہداف کا حصول ممکن بنایا جا رہا ہے  خالد محمود نے وزیراعلٰی کو سالانہ رپورٹ بھی پیش کی ایس آر بی نے 100 ارب روپے کا ہدف عبور کیا اس میں 27 فیصد اضافہ ہوا , سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ ( ڈبلیو ڈبلیو ایف ) اور سندھ کمپنیز کے منافع ( ورکرز کی شراکت داری ) کے فنڈ کے لیئے 8 ارب روپے کا مجموعہ شامل ہے  رواں مالی سال کے دوران سیلز ٹیکس کی معیاری شرح 13 فیصد رہی جو ملک میں کسی بھی ٹیکس ڈومین سے کم ہے  سالانہ رپورٹ کے مطابق ٹیلی کمیونی کیشن , بندرگاہوں اور آپریٹرز , بینکوں , انشورنس اور فرنچائز سروسز اہم شراکت دار رہے  19-2018 ء کے لیے 120 بلین روپے کا ہدف مقرر کیا جارہا ہے  ڈوکیو مینٹیڈ ٹرانزیکشن پر قومی اور صوبائی ٹیکس کے ڈومینز کے ذریعے دوبارہ تجدید سے بہتر امکانات کی اُمید ہے

About author