محکمہ تعلیم  کا کم طلبہ کے حامل اسکولوں کو سسٹم سے نکالنے کا فیصلہ

محکمہ تعلیم کا کم طلبہ کے حامل اسکولوں کو سسٹم سے نکالنے کا فیصلہ

کراچی ( اے آئی اے ) محکمہ تعلیم کا کم طلبہ کے حامل اسکولوں کو سسٹم سے نکالنے کا فیصلہ تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کی طرف سے صوبہ کے نان وائبل اسکولز ( کم طلبہ کے حامل اسکولوں ) کو سسٹم سے خارج کرنے کے اقدامات تیز کردیے گئے ہیں گذشتہ روز اس سلسلے میں صوبہ سندھ کے تمام ٹی ای اوز ، ڈی ای اوز، سی ایم اوز اور ڈائریکٹرز کو اسکول وائبلٹی اسسمنٹ ورکشاپ میں ایک دن کی تربیت دی گئی ہے اور انہیں محکمے کی پالیسی سے آگاہی ، سنگ میل اور ڈیڈ لائنز سے آگاہ کیا گیا ہے محکمے کے فیلڈ افسران کو نان وائبل اسکولز کی نشاندہی کرنے اور اپنے اپنے علاقوں کی مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات کی گئیں ہیں اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ، سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری ، ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیو ایشن شہمیر بھٹو نے ورکشاپ میں افسران کو پالیسی گائیڈ لائنز سے آگاہ کیا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکریٹری تعلیم غلام اکبر لغاری نے کہا کہ نان وائبلٹی کا بنیادی اسکیل بچوں کی موجودگی ہے ، اگر کسی علاقے میں بچے موجود ہیں اور اسکول کی عمارت نہیں تو ہم فراہم کریں گے یا اساتذہ وہاں نہیں جا رہے تو ہم انہیں وہاں بھیجیں گے ، لیکن اگر عمارت موجود ہے اور اس علاقے میں بچے نہیں ہیں تو پھر وہ اسکول نان وائبل قرار دیا جائے گا اسی طرح اگر ڈیڑھ کلومیٹر کے اردگرد کوئی دوسرا سرکاری اسکول موجود ہے تو کوشش کریں گے کہ دونوں میں سے جس اسکول میں زیادہ بچے ہیں اس میں دوسرا اسکول ضم کردیں انہوں نے مزید کہا کہ علاقوں میں آبادی کے تناسب ، سرکاری اسکولوں کی موجودگی اور بچوں کی انرولمنٹ پر تفصیلی رپورٹ کے بعد ہی نان وائبل اسکولز اسسمنٹ مکمل ہو سکے گا وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ نان وائبلٹی اسسمنٹ کا کام 15 دن میں مکمل کر لیا جائے، تاکہ محکمے پر سے گھوسٹ اور نان وائبل اسکولوں کا بوجھ اتر سکے اور بجٹ کا استعمال فعال اسکولوں کی بہتری پر ہی خرچ ہو ​ہم غریب کے بچے کو ان پڑھ رکھ کر اپنے بچوں کو کبھی محفوظ نہیں رکھ سکتے، سماج میں سب کی خوشحالی سے ہی ہم سب کا مستقبل محفوظ ہوگا، ورنہ آپ کی نااہلی، کاہلی یا سستی کی وجہ سے کوئی بچہ تعلیم سے محروم رہ گیا اور کل منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو گیا تو ہمارا اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا ۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ کو ہی اپنے اپنے علاقوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کرنا ہے

About author