پی آئی کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے، عمران خان

پی آئی کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے، عمران خان

imran khan

اسلام آباد   ( اے آ ئی اے )  پاکستان تحریک انصاف کے زیر اہتمام ملک بھر میں پی آئی اے سمیت قومی اداروں کی نجکاری، بدامنی، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کیخلاف احتجاج کیا گیا اس موقع پر مظاہرے کئے گئے اور احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پی آئی کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں لایا جائے۔ بنی گالہ سے کراچی روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیاں انتہائی خطرناک ہیں، دنیا بھر کی فلاحی حکومتیں امیروں سے ٹیکس لے کرعوام پرخرچ کرتی ہے لیکن پاکستان میں غریبوں پر ٹیکس کا بوجھ ڈالا جارہا ہے اور امیروں کو چھوٹ دی جارہی ہے۔ ڈیزل پر 98 فیصد ٹیکس لیا جارہا ہے۔ 200 ارب روپے کے قرضے سے اورنج لائن بنائی جارہی ہے، ان کا کہنا تھا کہ نجکاری ہر مسئلے کا حل نہیں، اس سے صرف انتظامیہ بدلے گی، کسی بھی ادارے کی نجکاری سے پہلے عوامی فورم پر اس سلسلے میں مشاورت ہونی چاہیے، اپوزیشن کا کام ہے کہ حکومت سے سوال کرے، پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث ہی نہیں لایا گیا۔ آخر پی آئی اے کی نجکاری کی ضرورت کیوں پیش آرہی ہے۔ پی آئی اے کے ملازمین پر گولیاں چلائی گئیں جس پر افسوس ہوا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں عمران خان نے کہا کہ حکومت نے اس اہم منصوبے پرچھوٹے صوبوں کو اعتماد میں نہ لے کر متنازعہ کردیا ہے۔اس سلسلے میں وہ کل پارٹی رہنماﺅں سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ عمران خان نے کہا کہ اتوار کو بلوچستان میں جلسے سے خطاب کریں گے، جس میں آگے کا لائحہ عمل بتاﺅں گا۔ دبئی میں پاکستانیوں نے دو سالوں میں 650ارب روپے کی جائیداد خریدی ہے۔ نواز شریف خاندان کے اربوں روپے باہر کے بینکوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کا ایک گاڑی میں بیٹھنا کوئی بڑی بات نہیں، وزیراعظم کو لگتا ہے کہ اگر انہیں آرمی چیف کے ساتھ سہارا ملتا ہے تو وہ بیٹھ سکتے ہیں۔ دریں اثناءکراچی میں پی آئی اے ملازمین کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا وزیر اعظم پی آئی اے لازمی سروسز ایکٹ فوری طور پر واپس لیں۔ حکومت میں بیٹھے لوگوں کو جمہوریت کی سمجھ نہیں ہے۔ وزیر اعظم کو پیغام دیتا ہوں فوری پی آئی اے ملازمین سے بات چیت کریں۔ پی آئی اے ملازمین پر فائرنگ کی تحقیقات کےلئے جوڈیشل کمشن قائم کیا جائے۔ جمہوریت ڈنڈے اور بندوق سے نہیں چلتی۔ پی آئی اے کی نجکاری کے معاملے پر اپوزیشن کو اعتماد میں لینا چاہئے تھا۔ بندوق اور لازمی سروسز ایکٹ کی تلوار لٹکا کر مسائل حل نہیں ہوتے۔ وزیر اعظم پی آئی اے ملازمین سے بات کریں کیونکہ مسافر پریشان ہیں پرامن احتجاج جمہوریت میں ہر شہری کا حق ہے۔ نجکاری کو مستقبل کےلئے خطرہ سمجھنے پر احتجاج ملازمین کا حق ہے۔ اگر پرامن احتجاج میں فائرنگ ہو تو سب کو ساتھ کھڑے ہونا چاہئے۔

About author