موتیا کا لیزر کے ذریعے جدید علاج ’’فلیکس‘‘ سب سے کامیاب ہے , ماہرین
— August 3, 2018کراچی ( اے آئی اے ) پاکستان میں نابیناپن کی بیماری ایک فیصد موجود ہے اس میں سے 60فیصدکیسز موتیا کے ہیں ان 60فیصد میں سے 20 فیصد مریضوں کو ’’فلیکس‘‘ سرجری کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار طبی ماہرین نے 39 ویں کاروپتھ اور پہلی پاک کورنیا کانفرنس2018 کے سلسلے میں آپتھلمولوجی سوسائٹی آف پاکستان (او ایس پی ) اور ہاشمانیز اسپتال کلفٹن کے اشتراک سے کلفٹن میں منعقدہ پری کانفرنس ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا مقررین میں پروفیسر میجرجنرل مظہر اسحاق , معروف آئی سرجن ڈاکٹر شریف ہاشمانی , ڈاکٹر عامر اسرار , ڈاکٹرقاسم لطیف , صدرالیکٹ اوایس پی ڈاکٹر قاضی واثق , ڈاکٹر مصباح عزیز و دیگر شامل تھے ۔ فلیکس (فیمٹو سیکنڈ لیزر اسسٹڈ کیٹریکٹ سرجری ) پر ورکشاپ کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر شریف ہاشمانی تھے جبکہ میزبانی کے فرائض ڈاکٹر مصباح عزیزنے انجام دیئے ۔ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شریف ہاشمانی نے کہاکہ اس سیشن کا مقصد آئی اسپیشلسٹ کی تربیت کرناتھا۔ لیزر کیٹریکٹ سرجری پاکستان میں نئی ہے ۔دنیا میں بھی یہ بہت کم لوگ کررہے ہیں یہاں ڈاکٹرز کو بھی آگاہی دینے کی بہت ضرورت ہے ان میں بھی زیادہ آگاہی نہیں ہے ۔ ڈاکٹرز کو چاہیے کہ فلیکس کے لیئے وہ صحیح مریضوں کاانتخاب کریں اوران کی بھرپور کونسلنگ کریں یہ آپریشن صرف سرجن ہی بہتر کر سکتا ہے ۔ کچھ لوگ دوسرے طریقوں سے بھی کرتے ہیں لیکن فلیکس کا طریقہ سب سے کامیاب ہے ۔ 80 فیصد ایسے مریضوں کواس کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن 20فیصد مریض فلیکس کے قابل ہوتے ہیں طبی ماہرین نے کہا کہ موتیا سے ہونے والا نابینا پن قابل علاج ہے ۔اس کاعلاج نہ کرانے سے آنکھوں میں دھندلا پن شروع ہو جاتاہے پاکستان میں بھی اب موتیا کا لیزر کے ذریعے جدید علاج فلیکس شروع ہو گیا ہے ۔اس کے نتائج کافی بہتر مل رہے ہیں۔اس طریقہ علاج کے بارے میں آنکھوں کے ماہرین کوبھی آگاہی دینے کی ضرورت ہے