دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں قابو سے باہر ہو رہی ہیں ، اقوام متحدہ کا انتباہ

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیاں قابو سے باہر ہو رہی ہیں ، اقوام متحدہ کا انتباہ


نیویارک ( اے آئی اے ) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیاں قابو سے باہر ہوچکی ہیں۔ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب غیر سرکاری ڈیٹا کے مطابق مسلسل 7 دن تک دنیا کا اوسط درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا اور 29جون سے 5 جولائی تاریخ کا گرم ترین ہفتہ رہا۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے ایک بیان میں کہا کہ اگر ضروری اقدامات کرنے میں تاخیر کا سلسلہ برقرار رہا تو ہم ایک تباہ کن صورتحال کا سامنا کریں گے، کیونکہ مسلسل 2دنوں تک سب سے زیادہ درجہ حرارت کا ریکارڈ بنا۔4جولائی کو دنیا کا اوسط درجہ حرارت 17.18 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا اور اس طرح 3 جولائی کو 17.01ڈگری سینٹی گریڈ کا ریکارڈ ایک دن بعد ہی ٹوٹ گیا۔Maine یونیورسٹی کے موسمیاتی ڈیٹا کے مطابق 29سے 5جولائی کے دوران روزانہ کا عالمی اوسط درجہ حرارت .04ڈگری سینٹی گریڈ رہا، جو گزشتہ 44سال میں کسی بھی ہفتے میں سب سے زیادہ ہے۔ امریکا کے ادارے US National Oceanic and Atmospheric Administration (این او اے اے) نے بتایا کہ ہم جانتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث ہم گرم موسم سے گزر رہے ہیں جبکہ ایل نینو اور موسم گرما کے امتزاج کے باعث دنیا بھر کے متعدد حصوں میں ریکارڈ درجہ حرارت دیکھنے میں آیا۔سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلیاں اور ایل نینو کے باعث درجہ حرارت میں مزید ریکارڈ اضافہ ہو سکتا ہے۔اقوام متحدہ نے 4 جولائی کو ایل نینو کی واپسی کی تصدیق کی تھی۔ایل نینو کے دوران بحر الکاہل کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے جس سے دنیا بھر میں درجہ حرارت بڑھتا ہے۔اس سے قبل 6 جولائی کو یورپی یونین کے Copernicus Climate Change Service نے گزشتہ مہینے کو انسانی تاریخ کا گرم ترین جون قرار دیا تھا۔یورپی ادارے کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ جون میں سمندری سطح کا درجہ حرارت سب سے زیادہ رہا جس کی بنیادی وجہ شمالی اوقیانوس کا درجہ حرارت بڑھنا اور بحر اوقیانوس میں ایل نینو کا مضبوط ہونا ہے۔

About author